حدیث نمبر: 5412
وَفِي رِوَايَةٍ عِنْدَهُ أَيْضًا : أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ نَزَلَ قُدَيْدًا فَأُتِيَ بِالْحَجَلِ فِي الْجِفَانِ شَائِلَةً بِأَرْجُلِهَا فَأَرْسَلَ إِلَى عَلِيٍّ ، وَهُوَ يُضَفِّرُ بَعِيرًا لَهُ فَجَاءَ وَالْخَبْطُ يَتَحَاتُّ مِنْ يَدَيْهِ ، فَأَمْسَكَ عَلِيٌّ ، فَأَمْسَكَ النَّاسُ ، فَقَالَ : مَنْ هَاهُنَا مِنْ أَشْجَعَ ؟ هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَهُ أَعْرَابِيٌّ بِبَيْضَاتِ نَعَامٍ وَتَتْمِيرِ وَحْشٍ فَقَالَ : " أَطْعِمْهُنَّ أَهْلَكَ فَإِنَّا حُرُمٌ " ؟ . قَالُوا : بَلَى فَتَوَرَّكَ عُثْمَانُ عَلَى سَرِيرِهِ وَنَزَلَ وَقَالَ : خَبُثَتْ عَلَيْنَا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، وَفِيهِ كَلَامٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

ایک روایت میں ، جو انہوں نے نقل کی ہے ، یہ الفاظ ہیں : سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے قدید کے مقام پر پڑاؤ کیا ایک بڑے برتن میں ان کے پاس کبوتری کا گوشت لایا گیا جس کے پاؤں اوپر کی طرف اٹھے ہوئے تھے ، انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیجا جو اپنے اونٹ کے لئے چارہ تیار کر رہے تھے وہ تشریف لائے تو وہ ہاتھوں سے تنکے جھاڑ رہے تھے سیدنا علی رضی اللہ عنہ رک گئے لوگ بھی رک گئے سیدنا علی کی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : یہاں اشجع قبیلے سے تعلق رکھنے والا کون شخص موجود ہے کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو کہ جب ایک دیہاتی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس شتر مرغ کے انڈے اور جنگلی جانور کے گوشت کے چھوٹے ٹکڑے لے کے آیا تھا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا : تم یہ چیزیں اپنے گھر والوں کو کھلا دو ! کیونکہ ہم احرام کی حالت میں ہیں تو لوگوں نے جواب دیا : جی ہاں ۔ تو سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ اپنے پلنگ پر بیٹھے ہوئے تھے وہ نیچے اتر آئے اور بولے : یہ ہمارے لئے خبیث ہو گیا ( یعنی اب اسے کھانا ہمارے لئے درست نہیں ہے ) ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن زید ہے ، جس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے اس کی توثیق بھی کی گئی ہے اس کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5412
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف