❮
❯
حدیث نمبر: 5377
وَعَنِ السَّائِبِ بْنِ خَلَّادٍ أَنَّ جِبْرِيلَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " كُنْ عَجَّاجًا ثَجَّاجًا " . وَالْعَجُّ : التَّلْبِيَةُ . وَالثَّجُّ : نَحْرُ الْبُدْنِ .
قُلْتُ : رَوَاهُ أَصْحَابُ السُّنَنِ : " أَتَانِي جِبْرِيلُ فَأَمَرَنِي أَنْ آمُرَ أَصْحَابِي أَنْ يَرْفَعُوا أَصْوَاتَهُمْ عِنْدَ التَّلْبِيَةِ " .
رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ ابْنُ إِسْحَاقَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ .
محمد محی الدین

سیدنا سائب بن خلاد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور بولے : آپ عجاج اور شجاج ہو جائیں ۔ راوی کہتے ہیں : ) عج سے مراد تلبیہ پڑھنا اور شج سے مراد قربانی کا جانور قربان کرنا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” سنن “ کے مولفین نے
یہ روایت نقل کی ہے ۔ سیدنا جبرائیل علیہ السلام میرے پاس آئے اور انہوں نے مجھے یہ ہدایت کی کہ میں اپنے اصحاب کو یہ حکم دوں کہ وہ بلند آواز میں تلبیہ پڑھیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے وہ ثقہ ہے ، لیکن وہ تدلیس کرنے والا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5377
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «أخرجه مسند أحمد برقم: 16131، 16122، وأخرجه موطأ مالك برقم: 744، وأخرجه سنن الدارمي برقم: 1809، وأخرجه سنن الترمذي برقم: 829، وأخرجه سنن النسائي برقم: 2753، وأخرجه سنن أبي داود برقم: 1814، وأخرجه سنن ابن ماجه برقم: 2922، وأخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 6626»