مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الحج— حج کے بارے میں روایات
بَابُ الْإِهْلَالِ وَالتَّلْبِيَةِ . باب: احرام باندھنا اور تلبیہ پڑھنا
وَعَنِ السَّائِبِ بْنِ خَلَّادٍ أَنَّ جِبْرِيلَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " كُنْ عَجَّاجًا ثَجَّاجًا " . وَالْعَجُّ : التَّلْبِيَةُ . وَالثَّجُّ : نَحْرُ الْبُدْنِ . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ أَصْحَابُ السُّنَنِ : " أَتَانِي جِبْرِيلُ فَأَمَرَنِي أَنْ آمُرَ أَصْحَابِي أَنْ يَرْفَعُوا أَصْوَاتَهُمْ عِنْدَ التَّلْبِيَةِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ ابْنُ إِسْحَاقَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ . ¤سیدنا سائب بن خلاد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور بولے : آپ عجاج اور شجاج ہو جائیں ۔ راوی کہتے ہیں : ) عج سے مراد تلبیہ پڑھنا اور شج سے مراد قربانی کا جانور قربان کرنا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” سنن “ کے مولفین نے
یہ روایت نقل کی ہے ۔ سیدنا جبرائیل علیہ السلام میرے پاس آئے اور انہوں نے مجھے یہ ہدایت کی کہ میں اپنے اصحاب کو یہ حکم دوں کہ وہ بلند آواز میں تلبیہ پڑھیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے وہ ثقہ ہے ، لیکن وہ تدلیس کرنے والا ہے ۔