حدیث نمبر: 5375
وَعَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ خَلَّادِ بْنِ سُوَيْدٍ الْخَزْرَجِيِ أَخِي بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ قَالَ : أَتَى جِبْرِيلُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ كُنْ عَجَّاجًا ثَجَّاجًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ نَفْسِهِ كَمَا تَرَاهُ وَجَعَلَ لَهُ تَرْجَمَةً ، ثُمَّ رَوَاهُ عَنْهُ عَنْ أَبِيهِ خَلَّادٍ كَمَا سَيَأْتِي ، وَلَعَلَّهُ سَمِعَهُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمِنْ أَبِيهِ ، وَفِيهِ ابْنُ إِسْحَاقَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ . ¤
محمد محی الدین

ابراہیم بن خلاد بن سوید خزرجی جن کا تعلق بنوحارث بن خزرج سے ہے وہ بیان کرتے ہیں : سیدنا جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور بولے : آپ عجاج اور شجاج ہو جائیں ( یعنی تلبیہ پڑھنے والے اور قربانی کرنے والے ہو جائیں ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں ابراہیم نامی راوی کے حوالے سے نقل کی ہے ۔ جیسا کہ آپ ملاحظہ فرما سکتے ہیں انہوں نے اس کے حالات بھی بیان کیے ہیں پھر اس کے حوالے سے اس کے والد خلاد کے حوالے سے روایت نقل کی ہے ۔ جیسا کہ آگے آئے گا ہو سکتا ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا سماع کیا ہو ، اور اپنے والد سے بھی کیا ہو اس روایت کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے ، اور وہ ثقہ ہے ، لیکن تدلیس کرنے والا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5375
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (996)»