مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الحج— حج کے بارے میں روایات
بَابُ مَا يَلْبَسُ الْمُحْرِمُ . باب: احرام باندھنے والا شخص کیا پہنے گا ؟
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ قَالَ : سَمِعَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ صَوْتَ ابْنِ الْمُغْتَرِفِ - أَوِ الْغَرِفِ - الْحَادِي فِي جَوْفِ اللَّيْلِ وَنَحْنُ مُنْطَلِقُونَ إِلَى مَكَّةَ فَأَوْضَعَ عُمَرُ رَاحِلَتَهُ حَتَّى دَخَلَ ( مَعَ الْقَوْمِ ) ، فَإِذَا هُوَ مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، فَلَمَّا طَلَعَ الْفَجْرُ قَالَ عُمَرُ : هَيْءَ الْآنَ اسْكُتِ الْآنَ قَدْ طَلَعَ الْفَجْرُ اذْكُرُوا اللَّهَ . قَالَ : ثُمَّ أَبْصَرَ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ خُفَّيْنِ قَالَ : وَخُفَّانِ ؟ قَالَ : قَدْ لَبِسْتُهُمَا مَعَ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْكَ أَوْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ( فَقَالَ عُمَرُ : عَزَمْتُ عَلَيْكَ إِلَّا نَزَعْتُهُمَا ، فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يَنْظُرَ النَّاسُ إِلَيْكَ فَيَقْتَدُونَ بِكَ ) . ¤سیدنا عبداللہ بن عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے نصف رات کے وقت ابن مغترف ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) ابن غرف نے یہ آواز سنی جو حدی پڑھ رہا تھا ہم اس وقت مکہ میں جا رہے تھے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی سواری کو بٹھایا اور لوگوں کے ساتھ آ کے شامل ہوئے وہ سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے ، جب صبح صادق ہو گئی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اب تو تم ( حدی پڑھنے سے ) خاموش ہو جاؤ صبح صادق ہو گئی ہے تم لوگ اللہ کا ذکر کرو راوی بیان کرتے ہیں : پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ کو موزے پہنے ہوئے دیکھا تو دریافت کیا : کیا آپ نے موزے پہنے ہوئے ہیں ؟ سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : میں نے ان دونوں کو اس ہستی کے ساتھ پہنا تھا جو آپ سے زیادہ بہتر ہیں ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پہنا تھا ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں آپ کو تاکید کرتا ہوں کہ آپ انہیں اتار دیں کیونکہ مجھے یہ اندیشہ ہے کہ لوگ آپ کی طرف دیکھیں گے اور پھر آپ کی پیروی کریں گے ۔