مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الحج— حج کے بارے میں روایات
بَابُ الطِّيبِ عِنْدَ الْإِحْرَامِ . باب: احرام باندھنے کے وقت خوشبو لگانا
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَنَّهُ وَجَدَ رِيحَ طِيبٍ بِذِي الْحُلَيْفَةِ فَقَالَ : مِمَّنْ هَذِهِ الرِّيحُ ؟ فَقَالَ مُعَاوِيَةُ : مِنِّي يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ . فَقَالَ : مِنْكَ لَعَمْرِي . قَالَ : طَيَّبَتْنِي أُمُّ حَبِيبَةَ وَزَعَمَتْ أَنَّهَا طَيَّبَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ إِحْرَامِهِ . قَالَ : اذْهَبْ فَأَقْسِمْ عَلَيْهَا لَمَا غَسَلَتْهُ فَرَجَعَ إِلَيْهَا فَغَسَلَتْهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَزَادَ بَعْدَ الْأَمْرِ بِغَسْلِهِ : فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ الْحَاجَّ الشَّعِثُ التَّفِلُ " . ¤ وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . إِلَّا أَنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عُمَرَ ، وَإِسْنَادُ الْبَزَّارِ مُتَّصِلٌ إِلَّا أَنَّ فِيهِ إِبْرَاهِيمَ بْنَ يَزِيدَ الْخُوزِيَّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : انہوں نے ذوالحلیفہ میں خوشبو محسوس کی ، تو فرمایا یہ خوشبو کہاں سے آ رہی ہے ؟ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے امیر المؤمنین یہ خوشبو مجھ سے آ رہی ہے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : مجھے اپنی زندگی کی قسم ہے تم سے ہی آ رہی ہے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے بتایا : سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہ نے مجھے خوشبو لگائی ہے ان کا یہ کہنا تھا کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے احرام باندھنے کے وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خوشبو لگائی تھی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم جاؤ اور انہیں تاکید کرو کہ وہ اس کو دھو دیں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہ ان کے پاس واپس گئے تو انہوں نے اسے دھو دیا ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں کہ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے دھونے کا حکم دیا تو اس کے بعد یہ بات بیان کی کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” حاجی بکھرے ہوئے بالوں والا اور خوشبو کے بغیر ہوتا ہے “ ۔ امام أحمد کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں البتہ سلیمان بن یسار نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔ امام بزار کی سند متصل ہے ، البتہ اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن یزید خوزی ہے ، اور وہ متروک ہے ۔