مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الحج— حج کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ تَرَكَ الْخَيْرَ وَالْحَجَّ لِعَرَضٍ مِنَ الدُّنْيَا . باب: جو شخص کسی دنیاوی مقصد کے لئے ( کسی ) بھلائی یا حج کو چھوڑ دیتا ہے
عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ عَبْدٍ وَلَا أَمَةٍ يَدَعُ أَنْ يَمْشِيَ فِي حَاجَةِ أَخِيهِ الْمُسْلِمِ إِلَّا مَشَى مِنْهَا فِي سُخْطِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، وَلَا يَدَعُ أَنْ يُنْفِقَ نَفَقَةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ إِلَّا أَنْفَقَ أَضْعَافًا مُضَاعَفَةً فِي سُخْطِ اللَّهِ ، وَلَا يَدَعُ الْحَجَّ لِغَرَضٍ مِنَ الدُّنْيَا إِلَّا رَأَى الْمُحَلِّقِينَ قَبْلَ أَنْ يَقْضِيَ تِلْكَ الْحَاجَةَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عُبَيْدُ بْنُ الْقَاسِمِ الْأَسَدِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤سیدنا ابوحجیفہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو بھی بندہ یا کنیز اپنے کسی مسلمان بھائی کے کام کے سلسلے میں چل کے جانے کو ترک کر دیتے ہیں تو وہ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی میں ( اتنا ہی ) چل کر جاتے ہیں اور جو شخص اللہ کی راہ میں کچھ خرچ کرنے کو ترک کر دیتا ہے ، تو وہ اس کا کئی گنا زیادہ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی میں خرچ کرتا ہے ، اور جو شخص کسی دنیاوی غرض سے حج کو ترک کر دیتا ہے ، تو وہ اس ( دنیاوی ) حاجت کے پورا ہونے سے پہلے ہی سر منڈوائے ہوئے لوگوں کو دیکھ لیتا ہے ( یعنی اس کا وہ کام پورا ہونے سے پہلے ہی ، حاجی لوگ حج کر کے واپس آ چکے ہوتے ہیں“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبید بن قاسم اسدی ہے ، اور وہ متروک ہے ۔