حدیث نمبر: 4752
عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ : " كُلُّ مَعْرُوفٍ صَدَقَةٌ ، وَمَا أَنْفَقَ الرَّجُلُ عَلَى أَهْلِهِ وَمَالِهِ كُتِبَتْ لَهُ صَدَقَةٌ ، وَمَا وَقَى بِهِ عِرْضَهُ فَهُوَ لَهُ صَدَقَةٌ " . قَالَ : " وَكُلُّ نَفَقَةِ مُؤْمِنٍ فِي غَيْرِ مَعْصِيَةٍ فَعَلَى اللَّهِ خَلْفُهُ ضَامِنًا ; إِلَّا نَفَقَةً فِي بُنْيَانٍ " . ¤ قَالَ مِسْوَرٌ : قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ : فَقُلْنَا لِجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ : مَا أَرَادَ بِقَوْلِهِ : " وَمَا وَقَى بِهِ الْمَرْءُ بِهِ عَرْضَهُ " ؟ . قَالَ : يُعْطِي الشَّاعِرَ وَذَا اللِّسَانِ . قَالَ جَابِرٌ : كَأَنَّهُ يَقُولُ الَّذِي يُتَّقَى لِسَانُهُ . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ طَرَفٌ مِنْهُ . ¤ رَوَاهُ بِطُولِهِ أَبُو يَعْلَى ، وَاخْتَصَرَهُ الْإِمَامُ أَحْمَدُ كَمَا تَقَدَّمَ ، وَفِي إِسْنَادِ أَحْمَدَ الْمُنْكَدِرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ; وَثَّقَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ النَّسَائِيُّ وَغَيْرُهُ ، وَفِي إِسْنَادِ أَبِي يَعْلَى مِسْوَرُ بْنُ الصَّلْتِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

امام ابویعلیٰ نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ایک اور روایت نقل کی ہے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ہر نیکی صدقہ ہے آدمی اپنے اہل خانہ پر اور اپنے مال ( یعنی غلاموں وغیرہ ) پر جو خرچ کرتا ہے وہ اس کے لئے صدقہ کے طور پر نوٹ کیا جاتا ہے آدمی جس کے ذریعے اپنی عزت کو بچاتا ہے وہ اس کے لئے صدقہ کے طور پر نوٹ کیا جاتا ہے “ ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشا فرمایا ہے : ” مومن کا ہر وہ خرچ جو معصیت میں نہ ہو ، تو اللہ تعالیٰ کے ذمہ یہ بات لازم ہے کہ اس کی جگہ اسے مزید عطا کرے البتہ اس خرچ کا معاملہ مختلف ہے ، جو تعمیر میں استعمال ہوتا ہے “ ۔ مسور بیان کرتے ہیں : محمد بن منکدر نے کہا: ہم نے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان سے کیا مراد ہے ؟ ” جس کے ذریعے آدمی اپنی عزت کو محفوظ رکھتا ہے “ ۔ انہوں نے جواب دیا : یہ کہ آدمی کسی شاعر یا زبان دراز شخص کو کچھ دے دے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ یہ فرماتے ہیں گویا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ کہنا چاہ رہے تھے کہ آدمی اس کی بدزبانی سے بچ کے رہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ میں اس روایت کا ایک حصہ منقول ہے ۔ یہ طویل روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ امام أحمد نے اسے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے جیسا کہ پہلے گزر چکی ہے ۔ امام أحمد کی سند میں ایک راوی منکدر بن محمد بن منکدر ہے ، جسے امام أحمد اور دیگر حضرات نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔ امام نسائی رحمہ اللہ اور دیگر حضرات نے اسے ” ضعیف“ قرار دیا ہے ۔ امام ابویعلیٰ کی سند میں ایک راوی مسور بن صلت ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4752
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف