حدیث نمبر: 4748
وَعَنِ الْمُسْتَنِيرِ بْنِ أَخْضَرِ بْنِ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : كُنْتُ مَعَ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ فِي بَعْضِ الطُّرُقَاتِ ، فَمَرَرْنَا بِأَذًى فَأَمَاطَهُ أَوْ نَحَّاهُ عَنِ الطَّرِيقِ ، فَرَأَيْتُ مِثْلَهُ فَأَخَذْتُهُ فَنَحَّيْتُهُ ، فَأَخَذَ بِيَدِي فَقَالَ : يَا ابْنَ أَخِي ، مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا صَنَعْتَ ؟ قُلْتُ : يَا عَمِّ ، رَأَيْتُكَ صَنَعْتَ شَيْئًا فَصَنَعْتُ مِثْلَهُ . فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ أَمَاطَ أَذًى عَنْ طَرِيقِ الْمُسْلِمِينَ كُتِبَ لَهُ حَسَنَةٌ ، وَمَنْ تُقِبِّلَتْ مِنْهُ حَسَنَةٌ دَخَلَ الْجَنَّةَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَقَالَ الْمِزِّيُّ : صَوَابُهُ عَنِ الْمُسْتَنِيرِ بْنِ أَخْضَرَ بْنِ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ عَنْ جَدِّهِ ، كَمَا رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي كِتَابِ الْأَدَبِ ، فَإِنْ كَانَ كَمَا قَالَ الْمِزِّيُّ فَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ ، وَإِنْ كَانَ فِيهِ : عَنْ أَبِيهِ أَخْضَرَ ; فَلَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَ أَخْضَرَ ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤
محمد محی الدین

مستنیر بن اخضر بن معاویہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : میں سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کے ساتھ کسی راستے سے گزر رہا تھا ہم ایک تکلیف دہ چیز کے پاس سے گزرے تو انہوں نے اسے ہٹا دیا اور راستے سے اسے ایک طرف کر دیا پھر میں نے ایک اور تکلیف دہ چیز دیکھی تو میں نے اسے پکڑا اور اسے ایک طرف کر دیا انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور فرمایا : اے میرے بھتیجے ! تم نے ایسا کیوں کیا ہے ؟ میں نے عرض کیا : اے میرے چچا جان ! میں نے آپ کو یہ کام کرتے ہوئے دیکھا تو میں نے بھی اس کی مانند کر لیا تو انہوں نے بتایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص مسلمانوں کے راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹاتا ہے اس کے لئے ایک نیکی نوٹ کی جاتی ہے ، اور جس شخص کی ایک نیکی قبول ہو جائے وہ جنت میں داخل ہو گا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ امام مزی فرماتے ہیں درست یہ ہے کہ یہ مستنیر بن اخضر بن معاویہ بن قرہ کے حوالے سے ان کے دادا سے منقول ہے جیسا کہ امام بخاری رحمہ اللہ نے اسے کتاب الادب میں روایت کیا ہے اگر ویسا ہی ہو جس طرح امام مزی نے بیان کیا ہے ، تو پھر اگر اللہ نے چاہا تو اس کی سند حسن ہو گی ، اور اگر اس کی سند میں یہ مذکور ہو تو اس نے اپنے والد اخضر کے حوالے سے اسے ذکر کیا ہے ، تو پھر میں نے کسی کو اخضر کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4748
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن