مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزكاة— زکوۃ کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الْوَقْفِ . باب: وقف کا بیان
وَعَنْ أَبِي سَلَمَةَ بِشْرِ بْنِ بَشِيرٍ الْأَسْلَمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : لَمَّا قَدِمَ الْمُهَاجِرُونَ الْمَدِينَةَ اسْتَنْكَرُوا الْمَاءَ ، وَكَانَتْ لِرَجُلٍ مِنْ بَنِي غِفَارٍ عَيْنٌ يُقَالُ لَهَا : رُومَةَ ، وَكَانَ يَبِيعُ مِنْهَا الْقِرْبَةَ بِمُدٍّ . فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " بِعْنِيهَا بِعَيْنٍ فِي الْجَنَّةِ " . فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَيْسَ لِي وَلَا لِعِيَالِي غَيْرُهَا ، لَا أَسْتَطِيعُ ذَلِكَ . فَبَلَغَ ذَلِكَ عُثْمَانَ فَاشْتَرَاهَا بِخَمْسَةٍ وَثَلَاثِينَ أَلْفَ دِرْهَمٍ ، ثُمَّ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَتَجْعَلُ لِي مِثْلَ الَّذِي جَعَلْتَهُ لَهُ ، عَيْنًا فِي الْجَنَّةِ إِنِ اشْتَرَيْتُهَا ؟ قَالَ : " نَعَمْ " . قَالَ : قَدِ اشْتَرَيْتُهَا ، وَجَعَلْتُهَا لِلْمُسْلِمِينَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ أَبِي الْمَسَاوِرِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤ابوسلمہ بشر بن بشیر اسلمی اپنے والد کا یہ بیان کرتے ہیں : جب مہاجرین مدینہ منورہ آئے ، تو وہاں کا پانی انہیں موافق نہیں آیا بنوغفار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کا ایک کنواں تھا جس کا نام رومہ تھا وہ شخص اس کا ایک مشکیزہ ایک مد کے عوض میں فروخت کرتا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا تم اسے جنت میں موجود ایک کنویں کے عوض میں مجھے فروخت کر دو اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے لئے اور میرے اہل و عیال کے لئے اس کے علاوہ آمدن کا اور کوئی ذریعہ نہیں ہے میں ایسا نہیں کر سکتا جب سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو اس بات کی اطلاع ملی تو انہوں نے پینتیس ہزار درہم کے عوض میں اسے خرید لیا پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ نے جو پیشکش فلاں شخص کو دی تھی کیا وہ مجھے بھی کریں گے کہ مجھے جنت میں موجود کنواں مل جائے اگر میں اس کنویں کو خرید لیتا ہوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ۔ انہوں نے عرض کی : میں نے اسے خرید لیا ہے ، اور اسے مسلمانوں کے لئے وقف کرتا ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالاعلیٰ بن ابومساور ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔