مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الإيمان— ایمان کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي أَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ . باب: اہل جاہلیت کا بیان
وَعَنْ سَلَمَةَ بْنِ عَامِرٍ الضَّبِّيِّ قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ أَبِي كَانَ يَصِلُ الرَّحِمَ ، وَيَقْرِي الضَّيْفَ ، وَيَفِي بِالذِّمَّةِ . قَالَ : " وَلَمْ يُدْرِكِ الْإِسْلَامَ ؟ " . قَالَ : لَا . فَلَمَّا وَلَّيْتُ ، فَقَالَ : " عَلَيَّ بِالشَّيْخِ " قَالَ : " يَكُونُ ذَلِكَ فِي عَقِبِكَ ، فَلَنْ تَزُولُوا ، وَلَنْ تَتَفَرَّقُوا أَبَدًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤سیدنا سلمہ بن عامر ضبی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے والد صلہ رحمی کرتے تھے ، مہمان نوازی کرتے تھے ، ذمہ کو پورا کرتے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : انہوں نے اسلام کا زمانہ نہیں پایا ؟ میں نے جواب دیا : جی نہیں ! جب میں مڑ کر جانے لگا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس بوڑھے کو میرے پاس لاؤ آپ نے فرمایا : یہ ( یعنی سخاوت کی عادت ) تمہارے بعد والوں میں رہے گی ، تم ہمیشہ اس پر رہو گے اور کبھی جدا نہیں ہو گے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔