مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الإيمان— ایمان کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي أَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ . باب: اہل جاہلیت کا بیان
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّ عَدِيَّ بْنَ حَاتِمٍ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ أَبِي كَانَ يَصِلُ الرَّحِمَ ، وَيَحْمِلُ الْكَلَّ ، وَيُطْعِمُ الطَّعَامَ . قَالَ : فَهَلْ أَدْرَكَ الْإِسْلَامَ ؟ قَالَ : " لَا " قَالَ : " فَإِنَّ أَبَاكَ كَانَ يُحِبُّ أَنْ يُذْكَرَ فَذُكِرَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ . ¤سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : عدی بن حاتم ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور بولے : یا رسول اللہ ! میرے والد صلہ رحمی کرتے تھے ، دوسروں کا بوجھ اُٹھاتے تھے ، کھانا کھلاتے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا انہوں نے اسلام کا زمانہ پایا ہے ؟ سیدنا عدی رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : جی نہیں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہارے والد اس چیز کو پسند کرتے تھے کہ ان کا ذکر کیا جائے ، تو اُن کا ذکر ہو گیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی رشدین بن سعد ہے اور وہ متروک الحدیث ہے ۔