مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزكاة— زکوۃ کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ تُفْتَحُ عَلَيْهِمُ الدُّنْيَا . باب: جن لوگوں پر دنیا کو کشادہ کر دیا جائے گا ان کا بیان
وَعَنْ أَبِي سِنَانٍ الدُّؤَلِيِّ أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَعِنْدَهُ نَفَرٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ الْأَوَّلِينَ فَأَرْسَلَ عُمَرُ إِلَى سَفَطٍ أُتِيَ بِهِ مِنْ قَلْعَةٍ مِنَ الْعِرَاقِ ، فَكَانَ بِهِ خَاتَمٌ ، فَأَخَذَهُ بَعْضُ بَنِيهِ ، فَأَدْخَلَهُ فِي فِيهِ ، فَانْتَزَعَهُ عُمَرُ مِنْهُ ، ثُمَّ بَكَى عُمَرُ ، فَقَالَ لَهُ مَنْ عِنْدَهُ : لِمَ تَبْكِي وَقَدْ فَتَحَ اللَّهُ لَكَ وَأَظْهَرَكَ عَلَى عَدُوِّكَ ، وَأَقَرَّ عَيْنَكَ ؟ قَالَ عُمَرُ [ إِنِّي ] : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لَا تُفْتَحُ الدُّنْيَا عَلَى قَوْمٍ إِلَّا أَلْقَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بَيْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ ، وَالْبَغْضَاءَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ، وَأَنَا أُشْفِقُ مِنْ ذَلِكَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤ابوسنان دؤلی بیان کرتے ہیں : وہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اس وقت ان کے پاس مہاجرین اولین سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد موجود تھے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پیغام بھیجا کہ وہ سامان لایا جائے جو عراق کے ایک قلعہ سے آیا ہے اس میں ایک انگوٹھی موجود تھی ان کے کسی صاحبزادے نے وہ انگوٹھی لی اور اسے اپنے منہ میں ڈال لیا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے وہ ان سے واپس لی پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ رو پڑے ان کے پاس موجود افراد میں سے کسی صاحب نے ان سے دریافت کیا : آپ کیوں رو رہے ہیں ؟ جبکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو فتح نصیب کی ہے آپ کو آپ کے دشمن پر غلبہ عطا کیا ہے ، اور آپ کی آنکھوں کو ٹھنڈا کیا ہے ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” دنیا جس بھی قوم پر کشادہ کی جاتی ہے ، تو اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے درمیان عداوت اور بغض ڈال دیتا ہے ، اور یہ قیامت کے دن تک ہو گا ( سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ) تو مجھے اس بات کا اندیشہ ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے امام ابویعلیٰ نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ ( یہاں عربی متن میں اسی طرح تحریر ہے شاید یہاں یہ ہو گا کہ امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ) اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔