حدیث نمبر: 4665
وَعَنْ صَعْصَعَةَ بْنِ نَاجِيَةَ قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، رُبَّمَا فَضَلَتْ لِي الْفَضْلَةُ خَبَّأْتُهَا لِلنَّائِبَةِ وَابْنِ السَّبِيلِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أُمَّكَ وَأَبَاكَ ، وَأُخْتَكَ وَأَخَاكَ ، وَأَدْنَاكَ أَدْنَاكَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا صعصعہ بن ناجیہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! بعض اوقات میرے پاس اضافی چیز ہوتی ہے ، جسے میں نے کسی مشکل یا مسافر کے لئے سنبھال کے رکھا ہوتا ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم اپنی ماں اپنے باپ اپنی بہن اپنے بھائی اور درجہ بدرجہ قریبی عزیزوں ( پر اضافی رقم خرچ کرو ) “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4665
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7413)»