حدیث نمبر: 4632
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ : ( مَنْ ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا ) قَالَ أَبُو الدَّحْدَاحِ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَإِنَّ اللَّهَ يُرِيدُ مِنَّا الْقَرْضَ ؟ قَالَ : " نَعَمْ يَا أَبَا الدَّحْدَاحِ " . قَالَ : فَإِنِّي قَدْ أَقْرَضْتُ رَبِّي حَائِطِي ؛ حَائِطًا فِيهِ سِتُّمِائَةِ نَخْلَةٍ . ثُمَّ جَاءَ يَمْشِي حَتَّى أَتَى الْحَائِطَ ، وَفِيهِ أُمُّ الدَّحْدَاحِ فِي عِيَالِهَا فَنَادَاهَا : يَا أُمَّ الدَّحْدَاحِ . قَالَتْ : لَبَّيْكَ . قَالَ : اخْرُجِي فَإِنِّي قَدْ أَقْرَضْتُ رَبِّي حَائِطًا فِيهِ سِتُّمِائَةِ نَخْلَةٍ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ حُمَيْدُ بْنُ عَطَاءٍ الْأَعْرَجُ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤ قُلْتُ : وَتَأْتِي أَحَادِيثُ مِنْ نَحْوِ هَذَا فِي الْمَنَاقِبِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب یہ آیت نازل ہوئی : ” کون شخص اللہ تعالیٰ کو قرض حسنہ دے گا“ ۔ تو سیدنا ابودحداح رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اللہ تعالیٰ ہم سے قرض چاہتا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ۔ اے ابودحداح ! انہوں نے عرض کی : پھر میں اپنے پروردگار کو اپنا باغ قرض کے طور پر دیتا ہوں وہ باغ جس میں چھ سو کھجور کے درخت ہیں پھر وہ چلتے ہوئے اپنے باغ میں آئے وہاں اُم دحداح اپنے گھر والوں میں موجود تھیں انہوں نے اسی خاتون کو پکار کر کہا: اے ام دحداح انہوں نے جواب دیا : میں حاضر ہوں ۔ سیدنا ابوداحداح نے کہا: تم نکل آؤ کیونکہ میں نے یہ باغ اپنے پروردگار کو قرض کے طور پر دے دیا ہے ، جس میں چھ سو کھجوروں کے درخت ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حمید بن عطاء اعرج ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ، اس نوعیت کی دیگر احادیث مناقب سے متعلق باب میں آگے آئیں گی ، اگر اللہ نے چاہا ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4632
درجۂ حدیث محدثین: إسناده مصنف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (944)»