مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزكاة— زکوۃ کے بارے میں روایات
بَابُ الْحَثِّ عَلَى الصَّدَقَةِ بِقَوْلِهِ : " اتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ " وَنَحْوِ ذَلِكَ . باب: ( نبی اکرم ﷺ کا ) اپنے اس فرمان کے ذریعے صدقہ کی ترغیب دینا ’’ جہنم سے بچنے کی کوشش کرو خواہ نصف کھجور کے ذریعے ہو “ اور اس کی مانند دیگر فرامین
وَعَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ قَالَ : دَهَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاسٌ مَنْ قِيسٍ مُجْتَابِي النِّمَارِ مُتَقَلِّدِي السُّيُوفِ ، فَسَاءَهُ مَا رَأَى مِنْ حَالِهِمْ ، فَصَلَّى ثُمَّ دَخَلَ بَيْتَهُ ، ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى ، وَجَلَسَ فِي مَجْلِسِهِ ، فَأَمَرَ بِالصَّدَقَةِ وَحَضَّ عَلَيْهَا فَقَالَ : " تَصَدَّقَ رَجُلٌ مِنْ دِينَارِهِ ، تَصَدَّقَ مِنْ دِرْهَمِهِ ، تَصَدَّقَ رَجُلٌ مِنْ صَاعِ بُرِّهِ ، تَصَدَّقَ رَجُلٌ مِنْ صَاعِ تَمْرِهِ " ، فَجَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ بِصُرَّةٍ مِنْ ذَهَبٍ فِي يَدِهِ ، ثُمَّ تَتَابَعَ النَّاسُ حَتَّى رَأَى كَوْمَيْنِ مِنْ ثِيَابٍ وَطَعَامٍ ، فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَهَلَّلُ كَأَنَّهُ مُدْهَنَةٌ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ أَبُو إِسْرَائِيلَ الْمُلَائِيُّ ، وَفِيهِ كَلَامٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤سیدنا ابوحجیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قیس قبیلے سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگوں کو ملاحظہ فرمایا جنہوں نے کپڑے پہنے ہوئے تھے ، اور تلواریں لٹکائی ہوئی تھیں ان کی حالت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو افسوس ناک لگی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھر تشریف لے گئے پھر آپ تشریف لائے آپ نے نماز پڑھائی پھر آپ وہاں پر تشریف فرما ہوئے آپ نے صدقہ کرنے کا حکم دیا اور اس بارے میں ترغیب دی آپ نے ارشاد فرمایا : کوئی شخص اپنا دینار صدقہ کرے کوئی درہم کرے کوئی اپنی گندم کا ایک صاع کر دے کوئی اپنی کھجوروں کا ایک صاع کر دے انصار سے تعلق رکھنے والا ایک شخص اپنے ہاتھ میں سونے کی ایک تھیلی لے کے آیا پھر لوگ یکے بعد دیگرے چیزیں لانے لگے یہاں تک کہ کپڑوں اور اناج کے دو ڈھیر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ملاحظہ فرمائے راوی کہتے ہیں : تو ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کو یوں جگمگاتے ہوئے دیکھا جیسے اس پر تیل لگا ہوا ہو ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابواسرائیل ملائی ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔