حدیث نمبر: 4588
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بِنَحْوِ حَدِيثٍ تَقَدَّمَ وَزَادَ : " يَا عَائِشَةُ ، اشْتَرِي نَفْسَكِ مِنَ اللَّهِ ، لَا أُغْنِي عَنْكِ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا ، وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ . يَا عَائِشَةُ ، لَا يَرْجِعَنَّ مِنْ عِنْدِكِ سَائِلٌ وَلَوْ بِظِلْفٍ مُحْرَقٍ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَبِيبٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اس کی مانند حدیث نقل کی ہے ، جو پہلے گزر چکی ہے ، اور یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” اے عائشہ ! تم اللہ تعالیٰ سے اپنی ذات کا سودا کر لو میں اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں تمہارے کسی کام نہیں آ سکتا خواہ تم نصف کھجور کے ذریعے ( اپنی ذات کا سودا کرو ) اے عائشہ ! مانگنے والا تمہارے پاس سے ( خالی ہاتھ ) واپس نہیں جانا چاہیے خواہ وہ جلا ہوا پایا ہی لے کر جائے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن شعیب ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4588
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف