مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزكاة— زکوۃ کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ رَضِيَ بِالْقَلِيلِ أَوْ سَخِطَهُ . باب: جو شخص تھوڑی چیز سے راضی ہو جائے ، یا تھوڑی چیز کی وجہ ناراض ہو جائے ، اس کا بیان
عَنْ أَنَسٍ قَالَ : أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَائِلٌ فَأَمَرَ لَهُ بِتَمْرَةٍ ، فَلَمْ يَأْخُذْهَا أَوْ وَحَّشَ لَهَا ، قَالَ : وَجَاءَهُ آخَرُ فَأَمَرَ لَهُ بِتَمْرَةٍ ، قَالَ : فَقَالَ : سُبْحَانَ اللَّهِ ، تَمْرَةٌ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ ! قَالَ : فَقَالَ لِلْجَارِيَةِ : " اذْهَبِي إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَأَعْطِيهِ الْأَرْبَعِينَ دِرْهَمًا الَّتِي عِنْدَهَا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ ، وَفِيهِ عُمَارَةُ بْنُ زَاذَانَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَفِيهِ كَلَامٌ لَا يَضُرُّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مانگنے والا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا ، آپ نے اُسے ایک کھجور دینے کا حکم دیا ، اس نے وہ نہیں لی ، اور اس پر وحشت کا اظہار کیا ، پھر ایک اور شخص آپ کے پاس آیا ، آپ نے اُسے ایک کھجور دینے کا حکم دیا ، تو اس نے کہا: سبحان اللہ ! اللہ کے رسول کی طرف سے ایک کھجور نصیب ہوئی ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کنیز سے فرمایا : تم اُم سلمہ کے پاس جاؤ ! اور اُس کے پاس جو چالیس درہم موجود ہیں ، وہ اسے دلوا دو ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، امام بزار نے اسے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمارہ بن زاذان ہے اس کے بارے میں ایسا کلام کیا گیا ہے ، جو نقصان دہ نہیں ہے ، اس کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔