مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزكاة— زکوۃ کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ جَاءَهُ شَيْءٌ مِنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ وَلَا إِشْرَافٍ . باب: جس شخص کے پاس مانگے بغیر یا لالچ کے بغیر کوئی چیز آ جائے
وَعَنْ خَالِدِ بْنِ عَدِيٍّ الْجُهَنِيِّ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ بَلَغَهُ مِنْ أَخِيهِ مَعْرُوفٌ مِنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ وَلَا إِشْرَافِ نَفْسٍ فَلْيَقْبَلْهُ وَلَا يَرُدَّهُ ، فَإِنَّمَا هُوَ رِزْقٌ سَاقَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَيْهِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، إِلَّا أَنَّهُمَا قَالَا : " مَنْ بَلَغَهُ مَعْرُوفٌ مِنْ أَخِيهِ " . وَقَالَ أَحْمَدُ : عَنْ أَخِيهِ . وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا خالد بن عدی جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جب کسی شخص کو اس کے بھائی کی طرف سے مانگے بغیر اور لالچ کے بغیر کوئی چیز مل جائے ، تو آدمی کو اسے قبول کر لینا چاہیے اور اسے مسترد نہیں کرنا چاہیے ، کیونکہ یہ وہ رزق ہے ، جو اللہ تعالیٰ نے اس کی طرف بھیجا ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد ، امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، تاہم ان دونوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” جس شخص کو اس کے بھائی کی طرف سے کوئی بھلائی پہنچے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ امام أحمد نے یہ لفظ نقل کیے عن اخیہ امام أحمد کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔