مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزكاة— زکوۃ کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ يَحِلُّ لَهُ السُّؤَالُ . باب: کس شخص کے لئے مانگنا حلال ہو جاتا ہے ؟
وَعَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى الْحَسَنِ ، وَالْحُسَيْنِ فَسَأَلَهُمَا فَقَالَا : إِنَّ الْمَسْأَلَةَ لَا تَصْلُحُ إِلَّا لِثَلَاثَةٍ : لِجَائِحَةٍ مُجْحِفَةٍ ، أَوْ لِحَمَالَةٍ مُثْقِلَةٍ ، أَوْ دَيْنٍ فَادِحٍ ، فَأَعْطَيَاهُ فَأَتَى ابْنَ عُمَرَ فَأَعْطَاهُ وَلَمْ يَسْأَلْهُ . فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ : أَتَيْتُ ابْنَيْ عَمِّي فَسَأَلَانِي وَأَنْتَ لَمْ تَسْأَلْنِي ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : أَبْنَاءُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا كَانَا يُغَرَّانِ الْعِلْمَ غَرًّا . . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ يُونُسُ بْنُ خَبَّابٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤مجاہد بیان کرتے ہیں : ایک شخص سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے پاس آیا ، اُس نے ان دونوں سے کچھ مانگا ، تو ان دونوں حضرات نے فرمایا : مانگنا ، صرف تین صورتوں میں جائز ہے ، ایسی آفت لاحق ہو ، جو نقصان کر دے ، یا ایسی ادائیگی لازم ہو ، جو بوجھل کر دے ، یا ایسا قرض ہو ، جو زیر بار کر دے ، پھر اُن دونوں حضرات نے اسے کچھ دے دیا ، پھر وہ شخص سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا ، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ویسے ہی کچھ دے دیا ، اس سے کچھ دریافت نہیں کیا ، اس شخص نے ان سے کہا: میں اپنے دو چچازاد افراد کے پاس گیا ، تو انہوں نے مجھ سے سوال کیا ، اور آپ نے مجھ سے کوئی سوال نہیں کیا ، تو سیدنا عبدالله بن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادوں کو علم لقموں کی طرح کھلایا گیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یونس بن خباب ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔