وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ هَذَا الْمَالَ خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ ، فَمَنْ أَخَذَهُ - قَالَ يَحْيَى : ذَكَرَ شَيْئًا لَا أَدْرِي مَا هُوَ ؟ - بِوُرِكَ لَهُ فِيهِ ، وَرُبَّ مُتَخَوِّضٍ فِي مَالِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ فِيمَا اشْتَهَتْ نَفْسُهُ لَهُ النَّارُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ دَاوُدُ الْعَطَّارُ ، وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤ قُلْتُ : وَتَأْتِي أَحَادِيثُ نَحْوُ هَذَا فِي الزُّهْدِ ، إِنْ شَاءَ اللَّهُ . ¤سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک یہ مال سرسبز اور میٹھا ہے ، تو جو شخص اس کو حاصل کرتا ہے ۔ یحیی نامی راوی کہتے ہیں : اس کے بعد انہوں نے کچھ الفاظ نقل کیے تھے ، لیکن مجھے نہیں سمجھ آئی کہ وہ کیا تھے ؟ ( اس کے بعد آگے روایت میں یہ الفاظ ہیں : ) اس شخص کے لئے اس میں برکت رکھی جائے گی ، اور اللہ اور اس کے رسول کے مال کے بارے کچھ لوگ ایسے ہیں ، جو اس کا لالچ رکھتے ہیں ، انہیں قیامت کے دن آگ نصیب ہو گی “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی داؤد عطار ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ، اس نوعیت سے متعلق دیگر احادیث آگے چل کر ، زہد سے متعلق باب میں آئیں گی ، اگر اللہ نے چاہا ۔