مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزكاة— زکوۃ کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي السُّؤَالِ . باب: مانگنے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " الْمَسْأَلَةُ كُدُوحٍ فِي وَجْهِ صَاحِبِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَمَنْ شَاءَ اسْتَبْقَى عَلَى وَجْهِهِ ؟ ! وَأَهْوَنُ الْمَسْأَلَةِ مَسْأَلَةُ ذِي الرَّحِمِ يَسْأَلُهُ فِي حَاجَةٍ ، وَخَيْرُ الْمَسْأَلَةِ الْمَسْأَلَةُ عَنْ ظَهْرِ غِنًى ، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” مانگنا ، اپنے مانگنے والے شخص کے لئے ، قیامت کے دن چہرے پر داغ ہو گا ، اب جو شخص چاہے ، وہ اپنے چہرے پر داغ کو باقی رکھے اور سب سے آسان مانگنا ، رشتے دار سے مانگنا ہے کہ آدمی اپنی حاجت کے سلسلے میں اس سے کچھ مانگ لے ، اور سب سے بہتر مانگنا ، وہ مانگنا ہے ( کہ جب آدمی دوسرے سے مانگے ، تو دینے والا اس کو دینے کے بعد ) خوشحال رہے ، اور تم اپنے زیر کفالت پر خرچ کرنے کا آغاز کرو “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔