مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزكاة— زکوۃ کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي السُّؤَالِ . باب: مانگنے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ الْحَنْظَلِيَّةِ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ عُيَيْنَةَ وَالْأَقْرَعَ سَأَلَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا فَأَمَرَ مُعَاوِيَةَ أَنْ يَكْتُبَ بِهِ لَهُمَا ، وَخَتَمَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَمَرَهُ أَنْ يَدْفَعَهُ إِلَيْهِمَا . قَالَ : فَأَمَّا عُيَيْنَةَ فَقَالَ : مَا فِيهِ ؟ فَقَالَ : فِيهِ الَّذِي أُمِرْتُ بِهِ ، فَقَبِلَهُ وَعَقَدَهُ فِي عِمَامَتِهِ ، وَكَانَ أَحْلَمَ الرَّجُلَيْنِ ، وَأَمَّا الْأَقْرَعُ فَقَالَ : أَحْمِلُ صَحِيفَةً لَا أَدْرِي مَا فِيهَا كَصَحِيفَةِ الْمُتَلَمِّسِ ، فَأَخْبَرَ مُعَاوِيَةُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَوْلِهِمَا ، وَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَاجَةٍ فَمَرَّ بِبَعِيرٍ مُنَاخٍ عَلَى بَابِ الْمَسْجِدِ مِنْ أَوَّلِ النَّهَارِ ثُمَّ مَرَّ بِهِ فِي آخِرِ النَّهَارِ ، فَقَالَ : " أَيْنَ صَاحَبُ هَذَا الْبَعِيرِ ؟ " . فَابْتُغِي فَلَمْ يُوجَدْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اتَّقُوا اللَّهَ فِي هَذِهِ الْبَهَائِمِ ارْكَبُوهَا صِحَاحًا ، وَارْكَبُوهَا سِمَانًا كَالْمُتَسَخِّطِ آنِفًا إِنَّهُ مَنْ سَأَلَ وَعِنْدَهُ مَا يُغْنِيهِ فَإِنَّمَا يَسْتَكْثِرُ مِنْ جَمْرِ جَهَنَّمَ " . قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا يُغْنِيهِ ؟ قَالَ : " مَا يُغَدِّيهِ أَوْ يُعَشِّيهِ " . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ بِاخْتِصَارٍ ، وَجَعَلَ أَنِ الَّذِي قَالَ : أَحْمِلُ صَحِيفَةً كَصَحِيفَةِ الْمُتَلَمِّسِ هُوَ عُيَيْنَةُ عَلَى الْعَكْسِ مِنْ هَذَا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا سہل بن حنظلیہ انصاری رضی اللہ عنہ ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں ، وہ بیان کرتے ہیں : عیینہ اور اقرع نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی چیز مانگی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ ان دونوں کے لئے کوئی تحریر لکھ دیں ، اور اس پر اللہ کے رسول نے مہر لگوا دی ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ تحریر اُن دونوں کے حوالے کر دیں ، راوی بیان کرتے ہیں : جہاں تک عینیہ کا تعلق تھا ، تو اس نے دریافت کیا : اس میں کیا ہے ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس میں وہ چیز ہے ، جس کے بارے میں ، میں نے حکم دیا ہے ، تو اس نے اس تحریر کو قبول کیا ، اور اسے اپنے عمامے میں باندھ لیا ، وہ اُن دونوں افراد میں زیادہ بردبار تھا ، جہاں تک کہ اقرع کا تعلق ہے ، تو اس نے کہا: کیا میں ایسا صحیفہ اٹھا کے لے کر جاؤں ؟ جس کے بارے میں مجھے پتہ ہی نہیں ہے کہ اس میں کیا ہے ؟ یہ تو متلمس کے صحیفے کی مانند ہو جائے گا ، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان دونوں کے قول کے بارے میں بتایا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کسی کام کے سلسلے میں گزرے ، آپ ایک اونٹ کے پاس سے گزرے ، جو مسجد کے دروازے پر بیٹھا ہوا تھا ، یہ دن کے ابتدائی حصے کی بات ہے ، جب آپ دن کے آخری حصے میں اُس کے پاس سے گزرے ، تو آپ نے دریافت کیا : اس اونٹ والا شخص کہاں ہے ؟ اُسے تلاش کیا گیا ، لیکن وہ نہیں ملا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ان جانوروں کے بارے میں ، اللہ تعالیٰ سے ڈرو ! تم ان پر اس وقت سواری کرو جب یہ صحیح ہوں ، اور اس وقت سواری کرو ، جب یہ موٹے تازے ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا : جو شخص کچھ مانگے اور اس کے پاس ایسی چیز موجود ہو ، جو اسے ( مانگنے سے ) بے نیاز کر سکتی ہو ، تو وہ جہنم کے انگارے زیادہ کرنے والا ہو گا ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا چیز اسے ( مانگنے سے ) بے نیاز کر سکتی ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس کا صبح یا شام کا کھانا ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابوداؤد نے مختصر طور پر نقل کی ہے ۔ انہوں نے یہ بات ذکر کی ہے کہ جس شخص نے یہ کہا: تھا : کیا میں ایک ایسا صحیفہ اٹھاؤں ، جو متلمس کے صحیفے کی مانند ہے ، وہ کہنے والا شخص عیینہ تھا ، یعنی یہ چیز اس روایت کے برعکس ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔