حدیث نمبر: 4468
وَعَنْ أَبِي الْفَيْضِ قَالَ : شَهِدْتُ مُعَاوِيَةَ وَأَعْطَى الْمِقْدَادَ بْنَ الْأَسْوَدِ حِمَارًا ، فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَالُ لَهُ : الْعِرْبَاضُ بْنُ سَارِيَةَ ، فَقَالَ : مَا لَكَ أَنْ تَأْخُذَهُ ، وَمَا لِمُعَاوِيَةَ أَنْ يُعْطِيَكَ ، كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ تَحْمِلُهُ عَلَى عُنُقِكَ رَأْسُهُ أَسْفَلَهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَأَبُو الْفَيْضِ لَمْ يُدْرِكِ الْمِقْدَادَ ، وَالْمِقْدَادُ لَمْ يُدْرِكْ خِلَافَةَ مُعَاوِيَةَ . ¤
محمد محی الدین

ابوالفیض بیان کرتے ہیں : میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا ، انہوں نے سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کو ایک گدھا دیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک صاحب ، جن کا نام سیدنا عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ تھا ، وہ کھڑے ہوئے ، انہوں نے کہا: کیا وجہ ہے کہ تم نے اسے کیوں وصول کیا ہے ؟ اور معاویہ کو کیا حق ہے کہ وہ تمہیں دے ؟ میں گویا اس وقت بھی تمہاری طرف دیکھ رہا ہوں کہ قیامت کے دن تم نے اسے اپنی گردن پر اٹھایا ہوا ہو گا ، اور اس کا سر نیچے کی طرف ہو گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، ابوالفیض نامی راوی نے سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ، اور سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی خلافت کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4468
درجۂ حدیث محدثین: إسناده منقطع
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (245/18)»