حدیث نمبر: 4456
وَعَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ : " قُمْ عَلَى صَدَقَةِ بَنِي فُلَانٍ ، وَانْظُرْ لَا تَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِبَكْرٍ تَحْمِلُهُ عَلَى عَاتِقِكَ - أَوْ كَاهِلِكَ - لَهُ رُغَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، اصْرِفْهَا عَنِّي . فَصَرَفَهَا عَنْهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ لَمْ يَرَ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا تم بنوفلاں کی زکوۃ وصول کرنے کا کام کرو ، اور اس بات کا دھیان رکھنا کہ ایسا نہ ہو کہ جب تم قیامت کے دن آؤ ، تو تم نے اپنی گردن پر کوئی اونٹ اُٹھایا ہوا ہو ( یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ) جو آواز نکال رہا ہو ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ یہ خدمت مجھے نہ دیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ ( ذمہ داری ) انہیں نہیں دی ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، صرف سعید بن مسیب نے سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کو نہیں دیکھا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4456
درجۂ حدیث محدثین: إسناده منقطع
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (5363) اخرجه الامام احمد فى المسند (285/5) اخرجه الامام البزار فى المسند (897)»