مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزكاة— زکوۃ کے بارے میں روایات
بَابُ صَدَقَةِ الْفِطْرِ . باب: صدقہ فطر کا بیان
وَعَنْهُ قَالَ : رَأَيْتُ نَاسًا مِنَ الْعَرَبِ أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا أُولُو مَاشِيَةٍ ، وَإِنَّنَا نُخْرِجُ صَدَقَتَهَا ، فَهَلْ تُجْزِئُ عَنَّا مِنْ زَكَاةِ رَمَضَانَ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا ، أَدُّوهَا عَنِ الصَّغِيرِ وَالْكَبِيرِ ، وَالْحُرِّ وَالْعَبْدِ ، فَأَنَّهَا طَهُورٌ لَكُمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَالْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ ، وَفِيهِ كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤اُن کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : وہ بیان کرتے ہیں : میں نے کچھ عربوں کو دیکھا کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم جانوروں والے لوگ ہیں ، ہم ان کی زکوۃ ادا کرنا چاہتے ہیں ، تو کیا رمضان کی زکوۃ ہماری طرف سے کفایت کر جائے گی ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی نہیں ! تم اُس کو ( یعنی صدقہ فطر ) کو ہر چھوٹے اور بڑے آزاد اور غلام کی طرف سے ادا کرو ، کیونکہ یہ تمہارے لئے طہارت کا باعث ہو گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، امام بزار نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی کثیر بن عبداللہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔