مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزكاة— زکوۃ کے بارے میں روایات
بَابُ صَدَقَةِ الْفِطْرِ . باب: صدقہ فطر کا بیان
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ صَارِخًا يَصْرُخُ فِي بَطْنِ مَكَّةَ يَأْمُرُ بِصَدَقَةِ الْفِطْرِ وَيَقُولُ : " هِيَ حَقٌّ وَاجِبٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى ، صَغِيرٍ أَوْ كَبِيرٍ ، حُرٍّ أَوْ عَبْدٍ ، حَاضِرٍ أَوْ بَادٍ ; مُدَّانِ مِنْ قَمْحٍ أَوْ صَاعٌ مِمَّا سِوَى ذَلِكَ مِنَ الطَّعَامِ ، أَلَا وَإِنَّ الْوَلَدَ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ " . ¤ وَفِي رِوَايَةٍ : " أَوْ نِصْفُ صَاعٍ مِنْ بُرٍّ ، مَنْ أَتَى بِدَقِيقٍ قُبِلَ مِنْهُ ، وَمَنْ أَتَى بِسَوِيقٍ قُبِلَ مِنْهُ " . ¤ رَوَاهُ كُلَّهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ عَبَّادٍ السَّعْدِيُّ ، وَفِيهِ كَلَامٌ . وَقَوْلُهُ : " مَنْ أَتَى بِدَقِيقٍ قُبِلَ مِنْهُ " مِنْ رِوَايَةِ الْحَسَنِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، وَالْحَسَنُ مُدَلِّسٌ ، وَلَكِنَّهُ ثِقَةٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو حکم دیا کہ وہ مکہ کے نشیبی علاقے میں بلند آواز میں اعلان کرے اور صدقہ فطر ادا کرنے کا حکم دے اور یہ کہے : ” یہ حق اور واجب ہے ، جو ہر مسلمان پر لازم ہے ، خواہ وہ مذکر ہو ، یا مونث ہو ، خواہ وہ چھوٹا ہو ، یا بڑا ہو ، آزاد ہو ، یا غلام ہو ، شہری ہو ، یا دیہاتی ہو ، یہ گندم کے دو مد ، یا اس کے علاوہ کسی بھی اناج کا ایک صاع ہو گا ، اور خبردار ! بچہ فراش والے کو ملے گا ، اور زنا کار کو محرومی ملے گی “ ۔ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” یا گندم کا نصف صاع ہو گا ، جو شخص آٹا لے گا ، تو اس سے قبول کیا جائے گا ، اور جو شخص جو لے آئے گا ، تو اس سے قبول کیا جائے گا“ ۔ یہ تمام روایات امام بزار نے نقل کی ہیں ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عباد سعدی ہے ، اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے روایت کے یہ الفاظ : ” جو شخص آٹا لے آئے گا وہ اس سے قبول کیا جائے گا “ ۔
یہ روایت حسن نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل کی ہے ، حسن نامی راوی تدلیس کرنے والا ہے ، لیکن وہ ثقہ ہے ۔