حدیث نمبر: 4417
وَعَنْ سَرَّاءَ بِنْتِ نَبْهَانَ الْغَنَوِيَّةِ قَالَتْ : احْتَفَرَ الْحَيُّ فِي دَارِ كِلَابٍ فَأَصَابُوا بِهَا كَنْزًا عَادِيًّا ، فَقَالَتْ كِلَابُ : دَارُنَا ، وَقَالَ الْحَيُّ : احْتَفَرْنَا فَنَافَرُوهُمْ فِي ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَضَى بِهِ لِلْحَيِّ وَأَخَذَ مِنْهُمُ الْخُمْسَ ، فَاشْتَرَيْنَا بِنَصِيبِنَا ذَلِكَ مِائَةً مِنَ النَّعَمِ ، فَأَتَيْنَا بِهِ الْحَيَّ فَأَرَادَ الْمُصَدِّقُ أَنْ يُصَدِّقَنَا ، فَأَبَيْنَا عَلَيْهِ ، وَأَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " إِنْ كُنْتُمْ جَعَلْتُمُوهَا فِي غَيْرِهَا ، وَإِلَّا فَلَا شَيْءَ عَلَيْكُمْ فِي هَذَا الْعَامِ " . وَقَالَ : " إِنَّ الْمُصَدِّقَ إِذَا انْصَرَفَ عَنِ الْقَوْمِ وَهُوَ عَنْهُمْ رَاضٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ، وَإِذَا انْصَرَفَ وَهُوَ عَلَيْهِمْ سَاخِطٌ سَخِطَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ أَحْمَدُ بْنُ الْحَارِثِ الْغَسَّانِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سراء بنت نبھان غنویہ بیان کرتی ہیں : ایک قبیلہ ( کے افراد ) کلاب کے محلے میں زمین کی کھدائی کر رہے تھے ، انہیں خزانہ ملا ، تو کلاب والوں نے کہا: یہ ہماری جگہ ہے ، قبیلے والوں نے کہا: اسے ہم نے کھودا ہے ، اُن لوگوں نے اپنا یہ مقدمہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلے والوں کے حق میں فیصلہ دیا ، اور ان سے خمس وصول کیا ، ( راوی خاتون بیان کرتی ہیں : ) ان میں سے جو چیز ہمارے حصے میں آئی اس سے ہم نے ایک سو جانور خریدے ، ہم اُسے لے کے قبیلے میں آئے ، زکوۃ وصول کرنے والے نے ہم پر زکوۃ لازم کرنا چاہی ، تو ہم نے انکار کیا ، ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر تم نے اس رقم کو کسی اور مقصد میں استعمال کیا ہے ، تو پھر تم پر اس سال کو ادائیگی لازم نہیں ہو گی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی : ” زکوۃ وصول کرنے والا ، جب کسی قوم کے پاس سے واپس جائے ، اور وہ ان سے راضی ہو ، تو اللہ تعالیٰ بھی ان لوگوں سے راضی ہوتا ہے ، اور جب وہ زکوۃ وصول کرنے والا اُن لوگوں کے پاس سے ایسی حالت میں واپس جائے کہ وہ ان پر ناراض ہو ، تو اللہ تعالیٰ بھی ان ( لوگوں ) پر ناراض ہوتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی أحمد بن حارث عنسانی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4417
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (308/24)»