مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزكاة— زکوۃ کے بارے میں روایات
بَابُ الْخَرْصِ . باب: پیداوار کا اندازہ لگانا
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ أَبَاهُ أَبَا حَثْمَةَ خَارِصًا ، فَجَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ أَبَا حَثْمَةَ زَادَ عَلَيَّ . فَدَعَا أَبَا حَثْمَةَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ ابْنَ عَمِّكَ يَزْعُمُ أَنَّكَ قَدْ زِدْتَ عَلَيْهِ ؟ " فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَدْ تَرَكْتُ عُرْيَةَ أَهْلِهِ ، وَمَا تَطْعَمُهُ الْمَسَاكِينُ ، وَمَا يُصِيبُ الرِّيحُ . فَقَالَ : " قَدْ زَادَكَ ابْنُ عَمِّكَ ، وَأَنْصَفَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ صَدَقَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا سہل بن ابوحثمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کے والد سیدنا ابوحثمہ رضی اللہ عنہ کو کھجوروں کی پیداوار کا اندازہ لگانے کے لئے بھیجا ، ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، اُس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! سیدنا ابوحثمہ ، رضی اللہ عنہ نے ہم پر زیادہ ادائیگی مقرر کی ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوحثمہ رضی اللہ عنہ کو بلایا آپ نے فرمایا : اے ابوحثمہ ! تمہارا چچازاد یہ کہتا ہے کہ تم نے اس پر زیادہ ادائیگی مقرر کی ہے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے اس کے اہل خانہ کے لئے کچھ حصہ چھوڑا ہے ، جس کو یہ مسکینوں کو کھلا سکے اور جس کو ہوا نے گرا دیا تھا ، وہ بھی چھوڑ دیا تھا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہارے چچازاد نے تو تمہیں زیادہ حصہ دیا ہے ، اور انصاف سے کام لیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن صدقہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔