مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزكاة— زکوۃ کے بارے میں روایات
بَابٌ مِنْهُ فِي بَيَانِ الزَّكَاةِ . باب: زکوۃ کا بیان
وَعَنْ سُفْيَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ بَعَثَ مُصَدِّقًا فَقَالَ : تَعْتَدُّ عَلَيْهِمْ بِالسَّخْلِ ؟ فَقَالُوا : يَعْتَدُّ عَلَيْنَا بِالسَّخْلِ ، وَلَا يَأْخُذُ مِنْهُ . فَلَمَّا قَدِمَ عَلَى عُمَرَ ذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : نَعَمْ يُعْتَدُّ عَلَيْهِمْ بِالسَّخْلَةِ يَحْمِلُهَا الرَّاعِي وَلَا يَأْخُذُهَا ، وَلَا يَأْخُذُ الْأَكُولَةَ ، وَلَا الرُّبَّى ، وَلَا الْمَاخِضَ ، وَلَا فَحْلَ الْغَنَمِ ، وَيَأْخُذُ الْجَذَعَةَ ، وَالثَّنِيَّةَ ، فَذَلِكَ عَدْلٌ بَيْنَ غَذِيِّ الْمَالِ وَخِيَارِهِ . . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سفیان بن عبداللہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے زکوۃ وصول کرنے والا شخص بھیجا ، تو انہوں نے فرمایا : تم نے جانوروں میں بالکل چھوٹے بچے کو بھی شمار کرنا ہے ، لوگوں نے کہا: اس نے ہمارے حوالے سے بالکل چھوٹے بچے کو بھی شمار کیا ہے ، لیکن زکوۃ میں اُسے وصول نہیں کیا ، جب وہ شخص سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے یہ بات ذکر کی ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا : جی ہاں ! ان لوگوں کے خلاف چھوٹے بچے کو شمار کیا جائے گا ، جسے چرواہا اٹھا کے چلتا ہے ، لیکن زکوۃ وصول کرنے والا اسے زکوۃ میں وصول نہیں کرے گا ، اور نہ ہی وہ ایسے جانور کو وصول کرے گا جس کو اپنے کھانے کے لیے یا اپنے لیے دودھ حاصل کرنے کے لیے پالا گیا ہو ، نہ حاملہ کو اور نہ ہی بکرے کو وصول کرے گا ، وہ جذعہ اور ثنبہ کو وصول کرے گا ، اور ( عمدہ یا بالکل ہی ردی مال کی بجائے ) درمیانے درجہ کا مال وصول کرے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ، اور اس کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔