حدیث نمبر: 4372
وَعَنْ حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ قَالَ : جَاءَ نَاسٌ [ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ ] إِلَى عُمَرَ فَقَالُوا : إِنَّا قَدْ أَصَبْنَا أَمْوَالًا خَيْلًا وَرَقِيقًا ، نُحِبُّ أَنْ تَكُونَ لَنَا فِيهَا زَكَاةٌ وَطَهُورٌ ، قَالَ : مَا فَعَلَهُ صَاحِبَايَ [ قَبْلِي ] فَأَفْعَلُهُ ، وَاسْتَشَارَ أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِيهِمْ عَلِيٌّ ، فَقَالَ عَلِيٌّ : هُوَ حَسَنٌ إِنْ لَمْ يَكُنْ جِزْيَةً رَاتِبَةً يُؤْخَذُونَ بِهَا مِنْ بَعْدِكَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

حارثہ بن مضرب بیان کرتے ہیں : اہل شام سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، انہوں نے کہا: ہمیں کچھ اموال ملے ہیں ، گھوڑے ہیں اور غلام ہیں ، ہم یہ چاہتے ہیں کہ اُن میں ہم پر زکوۃ لازم ہو ، جو پاکیزگی کا باعث ہو ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : مجھ سے پہلے میرے دونوں آقاؤں نے ایسا نہیں کیا کہ میں ایسا کرتا ، پھر انہوں نے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب سے مشورہ لیا ، اُن میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی تھے ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : یہ اچھا کام ہو گا ، اگر یہ ایسا جزیہ نہ ہو ، جس کو باقاعدہ مقرر کر دیا جائے اور آپ کے بعد بھی اُسے وصول کیا جائے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے منجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4372
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح