مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الإيمان— ایمان کے بارے میں روایات
بَابٌ مِنْهُ فِي الْمُنَافِقِينَ . باب: منافقین کا بیان
وَعَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ أَنَّهُ قَالَ لِأَبِي الْأَعْوَرِ السُّلَمِيِّ : وَيْحَكَ ، أَلَمْ يَلْعَنْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رِعْلًا وَذَكْوَانَ وَعَمْرَو بْنَ سُفْيَانَ ؟ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَوْفٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤ وَذَكَرَ سَنَدًا آخَرَ إِلَى الْحَسَنِ ، قَالَ : دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَيْنَا بَيْتَ فَاطِمَةَ ، قَالَ : وَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، وَكَتَبْنَاهُ فِي أَحَادِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ فِي الْإِمْلَاءِ . ¤سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات منقول ہے : اُنہوں نے ابواعور سلمی سے یہ کہا: تمہارا ستیاناس ہو ! کیا اللہ کے رسول نے رعل اور ذکوان ( قبیلوں ) اور عمرو بن سفیان پر لعنت نہیں کی ہے ؟
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف عبدالرحمن بن ابوعوف نامی راوی کا معاملہ مختلف ہے ( یعنی وہ صحیح کے رجال میں سے تو نہیں ہے ، لیکن ) ویسے وہ ثقہ ہے ۔ انہوں نے ایک اور سند کے ساتھ ، سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے : وہ فرماتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں یعنی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لائے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اُس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ، ہم نے اسے ابن زبیر کی نقل کردہ ان احادیث میں نوٹ کیا ہے جو املاء کے طور پر نقل کی گئی ہیں ۔