مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزكاة— زکوۃ کے بارے میں روایات
بَابُ فَرْضِ الزَّكَاةِ باب: زکوۃ کا فرضیت کا بیان
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ فَرَضَ عَلَى أَغْنِيَاءِ الْمُسْلِمِينَ فِي أَمْوَالِهِمْ بِقَدْرِ الَّذِي يَسَعُ فُقَرَاءَهُمْ ، وَلَنْ يُجْهَدَ الْفُقَرَاءُ إِذَا جَاعُوا وَعَرَوْا إِلَّا بِمَا يُضَيِّعُ أَغْنِيَاؤُهُمْ ، أَلَا وَإِنَّ اللَّهَ يُحَاسِبُهُمْ حِسَابًا شَدِيدًا ، وَيُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا أَلِيمًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَقَالَ : تَفَرَّدَ بِهِ ثَابِتُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّاهِدُ . ¤ قُلْتُ : ثَابِتٌ مِنْ رِجَالِ الصَّحِيحِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا ، وَفِيهِمْ كَلَامٌ . ¤سیدنا علی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے خوش حال افراد پر ، اُن کے اموال میں ، اس حساب سے زکوۃ فرض قرار دی ہے ، جو ان کے غریبوں کے لئے گنجائش کر دے ، اور جب غریب بھوکے ہوں ، اور انہیں لباس کی ضرورت ہو ، تو انہیں مشکل نہ ہو ، البتہ اس چیز کا معاملہ مختلف ہے ، جو چیز ان کے خوشحال لوگ ضائع کر دیتے ہیں ، خبردار ! اللہ تعالیٰ ان سے زبردست حساب لے گا ، اور انہیں دردناک عذاب دے گا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، وہ فرماتے ہیں : ثابت بن محمد نامی زاہد ، اس روایت کو نقل کرنے میں منفرد ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ثابت نامی شخص ” صحیح “ کے رجال میں سے ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔