مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجنائز— جنائز کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الْعَذَابِ فِي الْقَبْرِ . باب: قبر میں عذاب ہونا
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ يَهُودِيَّةً كَانَتْ تَخْدِمُهَا ، فَلَا تَصْنَعُ عَائِشَةُ إِلَيْهَا شَيْئًا مِنَ الْمَعْرُوفِ إِلَّا قَالَتْ لَهَا الْيَهُودِيَّةُ : وَقَاكِ اللَّهُ عَذَابَ الْقَبْرِ . قَالَتْ : فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيَّ فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَلْ لِلْقَبْرِ عَذَابٌ قَبْلَ يَوْمِ الْقِيَامَةِ ؟ قَالَ : " لَا ، وَعَمَّ ذَاكَ ؟ " . قَالَتْ : هَذِهِ يَهُودِيَّةٌ لَا نَصْنَعُ إِلَيْهَا شَيْئًا مِنَ الْمَعْرُوفِ إِلَّا قَالَتْ : وَقَاكِ اللَّهُ عَذَابَ الْقَبْرِ . قَالَ : " كَذَبَتْ يَهُودُ ، وَهُمْ عَلَى اللَّهِ كُذُبٌ ، لَا عَذَابَ دُونَ يَوْمِ الْقِيَامَةِ " . قَالَتْ : ثُمَّ مَكَثَ بَعْدَ ذَلِكَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَمْكُثَ ، فَخَرَجَ ذَاتَ يَوْمٍ بِنِصْفِ النَّهَارِ مُشْتَمِلًا بِثَوْبِهِ مُحَمَّرَةً عَيْنَاهُ ، وَهُوَ يُنَادِي بِأَعْلَى صَوْتِهِ : " أَيُّهَا النَّاسُ ، أَظَلَّتْكُمُ الْفِتَنُ كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ ، أَيُّهَا النَّاسُ لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا ، أَيُّهَا النَّاسُ اسْتَعِيذُوا بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ ، فَإِنَّ عَذَابَ الْقَبْرِ حَقٌّ " . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ایک یہودی خاتون ان کی خدمت کیا کرتی تھی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا جب بھی اسے کوئی چیز دیا کرتی تھیں تو وہ یہودی خاتون ان سے یہی کہا: کرتی تھی اللہ تعالیٰ آپ کو قبر کے عذاب سے بچائے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا قیامت سے پہلے قبر میں عذاب ہو گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی نہیں اس سوال کی وجہ کیا ہے ؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا یہ یہودی عورت ہے میں جب بھی اس کے ساتھ کوئی اچھائی کرتی ہوں تو وہ یہ کہتی ہے اللہ تعالیٰ تمہیں قبر کے عذاب سے بچائے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہودی غلط کہتے ہیں : یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی طرف جھوٹی بات منسوب کرتے ہیں ، قیامت کے دن سے پہلے کوئی عذاب نہیں ہو گا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : پھر جتنا عرصہ اللہ کو منظور تھا اتنا عرصہ گزر گیا ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نصف النہار کے وقت نکلے آپ نے اپنے کپڑے کو لپیٹا ہوا تھا آپ کی آنکھیں سرخ تھیں آپ نے بلند آواز میں پکار کر یہ کہا: ” اے لوگو ! تم پر ایسے فتنے آئیں گے جو تاریک رات کے ٹکڑوں کی مانند ہوں گے اے لوگو ! اگر تمہیں وہ بات چل جائے جو میں جانتا ہوں تو تم تھوڑا ہنسو اور تم زیادہ روؤ اے لوگو ! تم قبر کے عذاب سے پناہ مانگو کیونکہ قبر کا عذاب حق ہے “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ” صحیح “ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔