مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجنائز— جنائز کے بارے میں روایات
بَابٌ إِلَى الْجَنَّةِ ، وَيُوَسَّعُ لَهُ فِي حُفْرَتِهِ . باب: قبر میں سوال ہونا
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : إِذَا حَدَّثْتُكُمْ بِحَدِيثٍ أُنَبِّئُكُمْ بِتَصْدِيقِ ذَلِكَ ، إِنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا مَاتَ جَلَسَ فِي قَبْرِهِ ، فَيُقَالُ : مَنْ رَبُّكَ ؟ مَا دِينُكَ ؟ مَنْ نَبِيُّكَ ؟ [ فَيُثَبِّتُهُ اللَّهُ ] فَيَقُولُ : رَبِّيَ اللَّهُ ، وَدِينِي الْإِسْلَامُ ، وَنَبِيِّي مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . فَيُوَسَّعُ لَهُ فِي قَبْرِهِ ، وَيُفَرَّجُ لَهُ فِيهِ . ثُمَّ قَرَأَ عَبْدُ اللَّهِ : ( يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ وَيُضِلُّ اللَّهُ الظَّالِمِينَ ) . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جب میں تم لوگوں کو کوئی حدیث بیان کروں تو میں اس کی تصدیق کے بارے میں ( قرآن کی آیت ) تمہیں بتاؤں گا جب مؤمن مر جاتا ہے ، تو وہ اپنی قبر میں بیٹھ جاتا ہے ، اور اس سے دریافت کیا جاتا ہے : تمہارا پروردگار کون ہے تمہارا دین کیا ہے ؟ تمہارے نبی کون ہیں تو اللہ تعالیٰ اسے ثابت قدم رکھتا ہے وہ عرض کرتا ہے میرا پروردگار اللہ تعالیٰ ہے میرا دین اسلام ہے میرے نبی سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں تو اس کے لئے اس کی قبر کو کشادہ کر دیا جاتا ہے ، اور اس کے لئے قبر میں کشادگی رکھی جاتی ہے پھر سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت تلاوت کی : ” اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو ثابت قول پر ثابت قدم رکھے گا دنیاوی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی اور اللہ تعالیٰ ظالموں کو گمراہ کر دے گا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔