حدیث نمبر: 4241
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : سَأَلْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ فَقُلْتُ : يَا أَبَا الْحَسَنِ ، أَيُّهُمَا أَفْضَلُ الْمَشْيُ خَلْفَ الْجِنَازَةِ أَوْ أَمَامَهَا ؟ فَقَالَ لِي : يَا أَبَا سَعِيدٍ ، وَمِثْلُكَ يَسْأَلُ عَنْ هَذَا ؟ فَقُلْتُ : وَمَنْ يَسْأَلُ عَنْ هَذَا إِلَّا مِثْلِي ، إِنِّي رَأَيْتُ أَبَا بَكْرٍ ، وَعُمَرَ يَمْشِيَانِ أَمَامَهَا . فَقَالَ : رَحِمَهُمَا اللَّهُ ، وَغَفَرَ لَهُمَا ، وَاللَّهِ لَقَدْ سَمِعَا كَمَا سَمِعْنَا ، وَلَكِنَّهُمَا كَانَا سَهْلَيْنِ يُحِبَّانِ السُّهُولَةَ . يَا أَبَا سَعِيدٍ ، إِذَا مَشَيْتَ خَلْفَ أَخِيكَ الْمُسْلِمِ فَأَنْصِتْ ، وَفَكِّرْ فِي نَفْسِكَ كَأَنَّكَ قَدْ صِرْتَ مِثْلَهُ . أَخُوكَ كَانَ يَشَاحُّكَ عَلَى الدُّنْيَا ، خَرَجَ مِنْهَا حَزِينًا سَلِيبًا ، لَيْسَ لَهُ إِلَّا مَا تَزَوَّدَ مِنْ عَمَلٍ صَالِحٍ . فَإِذَا بَلَغْتَ الْقَبْرَ فَجَلَسَ النَّاسُ فَلَا تَجْلِسْ ، وَلَكِنْ قُمْ عَلَى شَفِيرِ قَبْرِهِ ، فَإِذَا دُلِّيَ فَقُلْ : بِسْمِ اللَّهِ ، وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَعَلَى مِلَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، اللَّهُمَّ عَبْدُكَ نَزَلَ بِكَ وَأَنْتَ خَيْرُ مَنْزُولٍ بِهِ ، خَلَّفَ الدُّنْيَا خَلْفَ ظَهْرِهِ ، فَاجْعَلْ مَا قَدِمَ عَلَيْهِ خَيْرًا مِمَّا خَلَّفَ ; فَإِنَّكَ قُلْتَ : ( وَمَا عِنْدَ اللَّهِ خَيْرٌ لِلْأَبْرَارِ ) . ثُمَّ احْثُ عَلَيْهِ ثَلَاثَ حَثَيَاتٍ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَيُّوبٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ سے سوال کیا میں نے کہا: اے ابوالحسن ! ان دونوں میں سے کون سی صورت زیادہ فضیلت رکھتی ہے ، جنازے کے پیچھے چلنا یا اس کے آگے چلنا سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے ابوسعید ! کیا تم جیسا شخص اس بارے میں دریافت کرے گا میں نے کہا: اس بارے میں صرف میرے جیسا شخص ہی دریافت کر سکتا ہے کیونکہ میں نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو جنازے کے آگے چلتے ہوئے دیکھا ہے ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ ان دونوں حضرات پر رحم کرے اور ان دونوں کی مغفرت کرے ان دونوں حضرات نے بھی اسی طرح سنا جس طرح ہم لوگوں نے سنا ، لیکن یہ حضرات سہولت پسند تھے ، اور سہولت کو پسند کرتے تھے اے ابوسعید جب تم اپنے مسلمان بھائی ( کے جنازے ) کے پیچھے چلو تو خاموش رہو ، اور غور و فکر کرتے رہو کہ آخر کار تم نے بھی اس کی مانند ہو جاتا ہے ، تمہارا بھائی دنیا کا کتنا خواہشمند تھا ، وہ اس سے ایسی حالت میں گیا ہے کہ وہ غمگین ہے ، اور اس سے چیزیں سلب کر لی گئی ہیں اس کے پاس زاد سفر کے طور پر صرف نیک عمل ہے ، پھر جب تم قبر کے پاس پہنچ جاؤ لوگ بیٹھ جائیں تو تم نہ بیٹھنا بلکہ تم قبر کے کنارے پر کھڑے ہو جانا جب اسے قبر میں اتارا جائے تو تم یہ پڑھنا : ” اللہ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے اللہ کی راہ میں اور اللہ کے رسول کے دین پر ( میں اسے سپرد خاک کرتا ہوں ) “ ۔ اے اللہ ! یہ تیرا بندہ ہے ، جو تیرا مہمان بن گیا ہے ، اور تو سب سے بہترین میزبان ہے اس نے دنیا پس پشت ڈال دی ہے اس نے جو بھلائی آگے بھیجی تھی اسے اس کی جگہ بنا دے جسے یہ پیچھے چھوڑ کر گیا ہے کیونکہ تو نے ہی یہ بات ارشاد فرمائی ہے ” جو کچھ اللہ تعالیٰ کے پاس ہے وہ نیک لوگوں کے لئے زیادہ بہتر ہے “ ۔ ( سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ) پھر تم اس پر تین مرتبہ مٹی ڈال دینا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن ایوب ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4241
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الامام البزار فى المسند (839)»