مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجنائز— جنائز کے بارے میں روایات
بَابُ مَا يَقُولُ عِنْدَ إِدْخَالِ الْمَيِّتِ الْقَبْرَ . باب: میت کو قبر میں داخل کرتے وقت کیا پڑھا جائے ؟
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : لَمَّا وُضِعَتْ أُمُّ كُلْثُومٍ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْقَبْرِ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مِنْهَا خَلَقْنَاكُمْ وَفِيهَا نُعِيدُكُمْ وَمِنْهَا نُخْرِجُكُمْ تَارَةً أُخْرَى " قَالَ : ثُمَّ قَالَ : لَا أَدْرِي أَوْ قَالَ : " بِسْمِ اللَّهِ ، وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَعَلَى مِلَّةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " ، أَمْ لَا ؟ فَلَمَّا بَنَى عَلَيْهَا لَحْدَهَا طَفِقَ يَطْرَحُ إِلَيْهِمُ الْحُبُوبَ ، وَيَقُولُ : " سُدُّوا خِلَالَ اللَّبِنِ " ، ثُمَّ قَالَ : " أَمَا إِنَّ هَذَا لَيْسَ بِشَيْءٍ ، وَلَكِنَّهُ يُطَيِّبُ نَفْسَ الْحَيِّ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَإِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہ کو قبر میں اتارا جانے لگا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی : ” اسی سے ہم نے تمہیں پیدا کیا ہے ، اور اسی میں ہم تمہیں لوٹا دیں گے اور اسی میں سے ہم تمہیں دوبارہ نکالیں گے “ راوی بیان کرتے ہیں : پھر آپ نے کچھ کہا: جو مجھے سمجھ نہیں آئی پھر آپ نے یہ پڑھا : ” اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے اللہ کی راہ میں اور اللہ کے رسول کے دین پر ( میں اسے سپرد خاک کرتا ہوں ) “ ۔ جب آپ نے ان کی لحد بنا دی تو آپ نے ان کی طرف چھوٹے پتھر بڑھانے شروع کیے اور آپ نے فرمایا : ان کے ذریعے اینٹوں کے درمیان خالی جگہ کو پر کر دو ! پھر آپ نے ارشاد فرمایا : یہ کوئی چیز نہیں ہے ، لیکن اس کے ذریعے زندہ شخص کو اطمینان ملتا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند ضعیف ہے ۔