حدیث نمبر: 4206
وَعَنْ وَحْشِيِّ بْنِ حَرْبٍ قَالَ : لَمَّا مَاتَ النَّجَاشِيُّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِأَصْحَابِهِ : " إِنَّ أَخَاكُمُ النَّجَّاشِيَّ قَدْ مَاتَ ، قُومُوا فَصَلُّوا عَلَيْهِ " . فَقَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْهِ وَقَدْ مَاتَ فِي كُفْرِهِ ؟ فَقَالَ : " أَلَا تَسْمَعُونَ إِلَى قَوْلِ اللَّهِ : وَإِنَّ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ لَمَنْ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْكُمْ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِمْ " ، إِلَى آخِرِ الْآيَةِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ أَبِي دَاوُدَ الْحَرَّانِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا وحشی بن حرب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نجاشی کا انتقال ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے ارشاد فرمایا : تمہارے بھائی نجاشی کا انتقال ہو گیا ہے تم لوگ اٹھو اور اس کی نماز جنازہ ادا کرو ایک صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم اس کی نماز جنازہ کیسے ادا کر سکتے ہیں جبکہ اس کا انتقال کفر کے عالم میں ہوا ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا تم نے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نہیں سنا ہے : ” بے شک اہل کتاب میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جو اللہ تعالیٰ پر اور جو تمہاری طرف نازل کیا گیا اس پر اور جو ان کی طرف نازل کیا گیا اس پر ایمان رکھتے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ یہ آیت کے آخر تک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن ابوداؤد حرانی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4206
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (316/22)»