مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجنائز— جنائز کے بارے میں روایات
بَابُ الصَّلَاةِ عَلَى الْغَائِبِ . باب: غائبانہ نماز جنازہ ادا کرنا
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : لَمَّا قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَفَاةُ النَّجَاشِيِّ قَالَ : " اخْرُجُوا فَصَلُّوا عَلَى أَخٍ لَكُمْ لَمْ تَرَوْهُ قَطُّ " . فَخَرَجْنَا ، وَتَقَدَّمَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَصَفَّنَا خَلْفَهُ ، فَصَلَّى وَصَلَّيْنَا ، فَلَمَّا انْصَرَفْنَا قَالَ الْمُنَافِقُونَ : انْظُرُوا إِلَى هَذَا خَرَجَ فَصَلَّى عَلَى عِلْجٍ نَصْرَانِيٍّ لَمْ يَرَهُ قَطُّ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ : ( وَإِنَّ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ لَمَنْ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ ) إِلَى آخِرِ الْآيَةِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نجاشی کی وفات کی اطلاع ملی تو آپ نے ارشاد فرمایا : تم لوگ نکلو اور اپنے اس بھائی کی نماز جنازہ ادا کرو جسے تم نے کبھی نہیں دیکھا تو ہم نکلے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آگے ہوئے ہم نے آپ کے پیچھے صفیں بنا لیں ۔ آپ نے نماز ادا کی ہم نے بھی نماز ادا کی جب ہم نماز پڑھ کر فارغ ہوئے تو منافقین نے کہا: تم لوگ ان کی طرف دیکھو کہ یہ نکلے اور انہوں نے ایک عیسائی طاقتور شخص ( یعنی حکمران ) کی نماز جنازہ ادا کی ، جسے انہوں نے کبھی دیکھا بھی نہیں ہے ، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ” بے شک اہل کتاب میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں ، جو اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن ابوزناد ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔