مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجنائز— جنائز کے بارے میں روایات
بَابُ الْقِيَامِ لِلْجِنَازَةِ . باب: جنازے کے لیے کھڑا ہونا
وَعَنْ أَبِي مُوسَى - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِذَا مَرَّتْ بِكُمْ جِنَازَةٌ فَإِنْ كَانَ مُسْلِمًا ، أَوْ يَهُودِيًّا ، أَوْ نَصْرَانِيًّا فَقُومُوا لَهَا فَإِنَّهُ لَيْسَ لَهَا نَقُومُ وَلَكِنْ نَقُومُ لِمَنْ مَعَهَا مِنَ الْمَلَائِكَةِ " . ¤ قَالَ لَيْثٌ : فَحَدَّثْتُ هَذَا الْحَدِيثَ لِمُجَاهِدٍ فَقَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَخْبَرَةَ الْأَزْدِيُّ فَقَالَ : إِنَّا لَجُلُوسٌ مَعَ عَلِيٍّ نَنْتَظِرُ جِنَازَةً ؛ إِذْ مَرَّتْ بِنَا أُخْرَى فَقُمْنَا ، فَقَالَ عَلِيٌّ : مَا يُقِيِمُكُمْ ؟ فَقُلْنَا : هَذَا مَا تَأْتُونَا بِهِ يَا أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : وَمَا ذَاكَ ؟ قُلْتُ : زَعَمَ أَبُو مُوسَى أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِذَا مَرَّتْ بِكُمْ جِنَازَةٌ فَإِنْ كَانَ مُسْلِمًا ، أَوْ يَهُودِيًّا ، أَوْ نَصْرَانِيًّا فَقُومُوا لَهَا ; فَإِنَّهُ لَيْسَ نَقُومُ لَهَا وَلَكِنْ نَقُومُ لِمَنْ مَعَهَا مِنَ الْمَلَائِكَةِ " ، فَقَالَ عَلِيٌّ : مَا فَعَلَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - غَيْرَ مَرَّةٍ بِرَجُلٍ مِنَ الْيَهُودِ ، كَانُوا أَهْلَ كِتَابٍ وَكَانَ يَتَشَبَّهُ بِهِمْ ، فَإِذَا نُهِيَ انْتَهَى فَمَا عَادَ بَعْدُ . ¤ قُلْتُ : حَدِيثُ عَلِيٍّ رَوَاهُ النَّسَائِيُّ بِاخْتِصَارٍ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ . ¤سیدنا ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جب تمہارے پاس سے کوئی جنازہ گزرے تو خواہ وہ مسلمان ہو ، یا عیسائی ہو ، یا یہودی ہو تم اس کے لئے کھڑے ہو جاؤ کیونکہ ہم اس کے لئے کھڑے نہیں ہوتے ہیں بلکہ ہم اس وجہ سے کھڑے ہوتے ہیں جو فرشتے اس کے ساتھ ہوتے ہیں “ ۔ لیث بیان کرتے ہیں : میں نے مجاہد کو یہ حدیث بیان کی ، تو انہوں نے بتایا : عبداللہ بن سخبرہ ازدی نے مجھے یہ حدیث بیان کی وہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ہم سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھے ہوئے جنازے کا انتظار کر رہے تھے اسی دوران ایک جنازہ گزرا تو ہم کھڑے ہو گئے سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : تم لوگ کیوں کھڑے ہوئے ہو ؟ ہم نے کہا: یہ اس وجہ سے ہے ، جو ( حدیث ) آپ نے ہمیں بیان کی ہے : اے سیدنا محمد کے اصحاب ! سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : وہ کون سی حدیث ہے ؟ میں نے کہا: سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جب تمہارے پاس سے جنازہ گزرے خواہ مسلمان کا ہو ، یا یہودی کا ہو ، یا عیسائی کا ہو تو تم اس کے لئے کھڑے ہو جاؤ کیونکہ ہم اس کے لئے کھڑے نہیں ہوتے بلکہ ہم اس کے ساتھ جانے والے فرشتوں کے لئے کھڑے ہوتے ہیں“ ۔ سیدنا علی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا صرف ایک یہودی کے لئے کیا تھا ، آپ ( امور میں ) اہل کتاب کے ساتھ مشابہت اختیار کرتے تھے ، جب آپ کو اس سے منع کر دیا گیا ، تو آپ باز آ گئے اور اس کے بعد ایسا نہیں کیا ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث کو امام نسائی رحمہ اللہ نے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے وہ ثقہ ہے ، لیکن تدلیس کرنے والا ہے ۔