مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجنائز— جنائز کے بارے میں روایات
بَابُ الْقِيَامِ لِلْجِنَازَةِ . باب: جنازے کے لیے کھڑا ہونا
حدیث نمبر: 4111
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - أَنَّهُ قَالَ : سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، تَمُرُّ بِنَا جِنَازَةُ الْكَافِرِ نَقُومُ لَهَا ؟ قَالَ : " نَعَمْ قُومُوا لَهَا ; فَإِنَّكُمْ لَسْتُمْ تَقُومُونَ لَهَا إِنَّمَا تَقُومُونَ إِعْظَامًا لِلَّذِي يَقْبِضُ الْأَرْوَاحَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ہمارے پاس سے کافر کا جنازہ بھی گزرتا ہے ، تو کیا ہم اس کے لئے بھی کھڑے ہوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ۔ تم اس کے لئے کھڑے ہو کیونکہ تم اس جنازے کے لئے کھڑے نہیں ہوتے ہو تم اس ذات کے لئے کھڑے ہوتے ہو جو ارواح کو قبض کرتی ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد امام بزار اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ۔