مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجنائز— جنائز کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الشَّهِيدِ . باب: شہید کا بیان
عَنْ سَعِيدِ بْنِ عُبَيْدٍ ، وَكَانَ يُدْعَى فِي زَمَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْقَارِئَ ، وَكَانَ لَقِيَ عَدُوًّا ، فَانْهَزَمَ مِنْهُمْ ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ : هَلْ لَكَ فِي الشَّامِ لَعَلَّ اللَّهَ يَمُنُّ عَلَيْكَ ؟ قَالَ : لَا ، إِلَّا الْعَدُوَّ الَّذِي فَرَرْتُ مِنْهُمْ ، قَالَ : فَخَطَبَهُمْ بِالْقَادِسِيَّةِ ، فَقَالَ : إِنَّا لَاقُو الْعَدُوِّ إِنْ شَاءَ اللَّهُ غَدًا ، وَإِنَّا مُسْتَشْهِدُونَ فَلَا تَغْسِلُوا عَنَّا دَمًا ، وَلَا نُكَفَّنُ إِلَّا فِي ثَوْبٍ كَانَ عَلَيْنَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا سعید بن عبید رضی اللہ عنہ جنہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں قاری کہا: جاتا تھا ان کا دشمن سے سامنا ہوا دشمن نے ان لوگوں کو پسپا کر دیا ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: آپ شام جانا چاہیں گے ہو سکتا ہے اللہ تعالٰی آپ پر مہربانی کرے انہوں نے کہا: جی نہیں ! میں اس دشمن کی طرف جانا چاہوں گا ، جس سے میں فرار ہوا تھا راوی بیان کرتے ہیں : پھر انہوں نے ” قادسیہ “ کے مقام پر ان لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے یہ کہا: کل اگر اللہ نے چاہا ، تو ہم دشمن کا سامنا کریں گے اور ہم جام شہادت نوش کریں گے ، تم ہمارے خون کو نہ دھونا اور ہمیں اسی کپڑے کا کفن دینا ، جو ہمارے جسم پر موجود ہو گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔