مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجنائز— جنائز کے بارے میں روایات
بَابُ تَجْهِيزِ الْمَيِّتِ ، وَغُسْلِهِ ، وَالْإِسْرَاعِ بِذَلِكَ . باب: میت کو تیار کرنا اسے غسل دینا اور یہ کام جلدی کرنا
حدیث نمبر: 4078
وَعَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ : سُئِلَ عَبْدُ اللَّهِ عَنْ غَاسِلِ الْمَيِّتِ أَيَغْتَسِلُ ؟ قَالَ : إِنْ كُنْتُمْ تَرَوْنَ أَنَّ صَاحِبَكُمْ نَجِسًا فَاغْتَسِلُوا مِنْهُ ، وَإِلَّا فَإِنَّمَا يَكْفِيكُمُ الْوُضُوءُ . . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ إِبْرَاهِيمَ لَمْ يَسْمَعِ ابْنَ مَسْعُودٍ . ¤محمد محی الدین
ابراہیم نخعی بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے میت کو غسل دینے والے شخص کے بارے میں دریافت کیا گیا : کیا وہ غسل کرے گا انہوں نے فرمایا : تم لوگ یہ سمجھتے ہو کہ تمہارا ساتھی ( یعنی میت ) نجس تھا جس کی وجہ سے تم غسل کرو گے تمہارے لئے وضو کر لینا بھی کافی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں تاہم ابراہیم نخعی نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔