حدیث نمبر: 4074
وَعَنْ أُمِّ سُلَيْمٍ أُمِّ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا تُوُفِّيَتِ الْمَرْأَةُ فَأَرَادُوا أَنْ يُغَسِّلُوهَا فَلْيَبْدَءُوا بِبَطْنِهَا ; فَلْيُمْسَحْ بَطْنُهَا مَسْحًا رَفِيقًا إِنْ لَمْ تَكُنْ حُبْلَى ، فَإِنْ كَانَتْ حُبْلَى فَلَا تُحَرِّكِيهَا ، فَإِنْ أَرَدْتِ غَسْلَهَا فَابْدَئِي بِسُفْلَتِهَا فَأَلْقِي عَلَى عَوْرَتِهَا ثَوْبًا سِتِّيرًا ، ثُمَّ خُذِي كُرْسُفَةً فَاغْسِلِيهَا فَأَحْسِنِي غَسْلَهَا ، ثُمَّ أَدْخِلِي يَدَكِ مِنْ تَحْتِ الثَّوْبِ ، فَامْسَحِيهَا بِكُرْسُفٍ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، فَأَحْسَنِي مَسْحَهَا قَبْلَ أَنْ تُوَضِّئِيهَا ، ثُمَّ وَضِّئِيهَا بِمَاءٍ فِيهِ سِدْرٌ ، وَلْيُفْرِغِ الْمَاءَ امْرَأَةٌ وَهِيَ قَائِمَةٌ لَا تَلِي شَيْئًا غَيْرَهُ حَتَّى تُنَقَّى بِالسِّدْرِ وَأَنْتِ تَغْسِلِينَ ، وَلْيَلِ غُسْلَهَا أَوْلَى النَّاسِ بِهَا ، وَإِلَّا فَامْرَأَةٌ وَرِعَةٌ مُسْلِمَةٌ ، فَإِنْ كَانَتْ صَغِيرَةً أَوْ ضَعِيفَةً فَلْتَلِهَا امْرَأَةٌ أُخْرَى وَرِعَةٌ مُسَلِمَةٌ ، فَإِذَا فَرَغَتْ مِنْ غَسْلِ سُفْلَتِهَا غَسْلًا نَقَاءً بِسِدْرٍ وَمَاءٍ فَلْتُوَضِّئْهَا وُضُوءَ الصَّلَاةِ ، فَهَذَا بَيَانُ وُضُوئِهَا ، ثُمَّ اغْسِلِيهَا بَعْدَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ ، فَابْدَئِي بِرَأْسِهَا قَبْلَ كُلِّ شَيْءٍ ، فَأَنْقِي غَسْلَهُ مِنَ السِّدْرِ بِالْمَاءِ ، وَلَا تُسَرِّحِي رَأْسَهَا بِمُشْطٍ ، فَإِنْ حَدَثَ بِهَا حَدَثٌ بَعْدَ الْغَسْلَاتِ الثَّلَاثِ فَاجْعَلِيهَا خَمْسًا ، فَإِنْ حَدَثَ فِي الْخَامِسَةِ فَاجْعَلِيهَا سَبْعًا ، وَكُلُّ ذَلِكَ فَلْيَكُنْ وِتْرًا بِمَاءٍ وَسِدْرٍ ، فَإِنْ كَانَ فِي الْخَامِسَةِ أَوِ الثَّالِثَةِ فَاجْعَلِي فِيهِ شَيْئًا مِنْ كَافُورٍ وَشَيْئًا مِنْ سِدْرٍ ، ثُمَّ اجْعَلِي ذَلِكَ فِي جَرٍّ جَدِيدٍ ، ثُمَّ أَقْعِدِيهَا فَأَفْرِغِي عَلَيْهَا وَابْدَئِي بِرَأْسِهَا حَتَّى تَبْلُغِي رِجْلَيْهَا ، فَإِذَا فَرَغْتِ مِنْهَا فَأَلْقِي عَلَيْهَا ثَوْبًا نَظِيفًا ، ثُمَّ أَدْخِلِي يَدَكِ مِنْ وَرَاءِ الثَّوْبِ فَانْزِعِيهِ عَنْهَا ، ثُمَّ احْشِي سُفْلَتَهَا كُرْسُفًا مَا اسْتَطَعْتِ ، وَاحْشِي كُرْسُفَهَا ، ثُمَّ خُذِي سَبْتِيَّةً طَوِيلَةً مَغْسُولَةً فَارْبُطِيهَا عَلَى عَجُزِهَا [ كَمَا تُرْبَطُ عَلَى النِّطَاقِ ، ثُمَّ اعْقُدِيهَا بَيْنَ فَخِذَيْهَا وَضُمِّي فَخِذَيْهَا ثُمَّ أَلْقِي طَرَفَ السِّبْتِيَّةِ عَنْ عَجُزِهَا ] إِلَى قَرِيبٍ مِنْ رُكْبَتِهَا ، فَهَذَا شَأْنُ سُفْلَتِهَا ثُمَّ طَيِّبِيهَا وَكَفِّنِيهَا ، وَاطْوِي شَعْرَهَا ثَلَاثَةَ أَقْرُنٍ : قُصَّةً وَقَرْنَيْنِ ، وَلَا تُشَبِّهِيهَا بِالرِّجَالِ ، وَلْيَكُنْ كَفَنُهَا فِي خَمْسَةِ أَثْوَابٍ : أَحُدُّهَا الْإِزَارُ تَلُفِّي بِهِ فَخِذَيْهَا ، وَلَا تُنْقِصِي مِنْ شَعْرِهَا شَيْئًا بِنُورَةٍ وَلَا غَيْرِهَا ، وَمَا يَسْقُطُ مِنْ شَعْرِهَا فَاغْسِلِيهِ ثُمَّ اغْرِزِيهِ فِي شَعْرِ رَأْسِهَا ، وَطَيِّبِي شَعْرَ رَأْسِهَا فَأَحْسِنِي تَطْيِيبَهُ ، وَلَا تَغْسِلِيهَا بِمَاءٍ مُسَخَّنٍ ، وَاخْمِرِيهَا وَمَا تُكَفِّنِينَهَا بِهِ بِسَبْعِ نُبْذَاتٍ إِنْ شِئْتِ وَاجْعَلِي كُلَّ شَيْءٍ مِنْهَا وِتْرًا ، وَإِنْ بَدَا لَكِ أَنْ تُخَمِّرِيهَا فِي نَعْشِهَا فَاجْعَلِيهِ وِتْرًا ، هَذَا شَأْنُ كَفَنِهَا وَرَأْسِهَا ، وَإِنْ كَانَتْ مَحْدُورَةً أَوْ مَحْضُونَةً أَوْ أَشْبَاهَ ذَلِكَ فَخُذِي خِرْقَةً وَاحِدَةً وَاغْسِلِيهَا بِالْمَاءِ ، وَاجْعَلِي تَتَبَّعِي كُلَّ شَيْءٍ مِنْهَا ، وَلَا تُحَرِّكِيهَا ، فَإِنِّي أَخْشَى أَنْ يَتَنَفَّسَ مِنْهَا شَيْءٌ لَا يُسْتَطَاعُ رَدَّهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ بِإِسْنَادَيْنِ فِي أَحَدِهِمَا : لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ وَلَكِنَّهُ ثِقَةٌ ، وَفِي الْآخَرِ : جُنَيْدٌ وَقَدْ وُثِّقَ ، وَفِيهِ بَعْضُ كَلَامٍ . ¤
محمد محی الدین

سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا جو سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی والدہ ہیں وہ بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب کوئی عورت فوت ہو جائے اور لوگ ( یعنی خواتین ) اسے غسل دینے کا ارادہ کریں تو سب سے پہلے اس کے پیٹ سے آغاز کریں اس کے پیٹ پر نرمی سے ہاتھ پھیریں اگر وہ حاملہ نہ ہو اگر وہ حاملہ ہو ، تو پھر اسے حرکت نہ دیں اگر تم اس کو غسل دینے کا ارادہ کرو تو سب سے پہلے اس کے زیریں حصے سے آغاز کرو اور اس کی شرمگاہ پر ایسا کپڑا ڈال دو جو پردہ پوشی کر رہا ہو پھر تم روئی لے کر اس کے ذریعے اسے دھوؤ اور اچھی طرح سے دھوؤ پھر تم اپنا ہاتھ کپڑے کے نیچے داخل کرو اور روئی کے ذریعے تین مرتبہ اسے پونچھ لو پھر تم اسے وضو کروانے سے پہلے پھر پونچھ لو پھر تم اسے ایسے پانی کے ذریعے غسل کرواؤ جس میں بیری کے پتے ملے ہوئے ہوں اور ایک عورت پانی بہائے جو کھڑی ہوئی ہو وہ اس کے علاوہ اور کوئی کام نہ کرے یہاں تک کہ اسے بیری کے پتوں کے ذریعے صاف کر دیا جائے تم غسل دیتی رہو عورت کی غسل کی نگران وہ عورت بنے جو اس کی سب سے زیادہ قریبی عزیزہ ہو ورنہ کوئی ایسی عورت بنے جو مسلمان ہو ، اور پرہیز گار ہو خواہ وہ چھوٹی عمر کی ہو ، یا کمزور ہو پھر دوسری عورت اس کی نگران بنے جو پرہیز گار اور مسلمان ہو جب وہ اس کے زیریں حصے کو غسل دے کر فارغ ہو جائے جو اچھی طرح بیری کے پتے کے ذریعے اور پانی کے ذریعے صاف ہو چکا ہو تو پھر وہ عورت اس میت کو نماز کے وضو کی طرح وضو کروائے یہ اس کے وضو کا بیان ہے پھر اس کے بعد اسے تین مرتبہ غسل دے جو پانی اور بیرے کے پتوں کے ذریعے ہو ہر چیز سے پہلے سر سے آغاز کرے پانی کے ہمراہ بیری کے پتوں کے ذریعے اسے دھو کر صاف کرے اور کنگھی کے ذریعے اس کے بال نہ سنوارے اگر تین مرتبہ غسل دینے کے بعد حدث لاحق ہو جاتا ہے ، تو پانچ مرتبہ غسل دے اگر پانچ مرتبہ کے بعد ہو جاتا ہے ، تو سات مرتبہ دے ہر صورت میں پانی اور بیری کے پتوں کا استعمال طاق تعداد میں ہونا چاہیے پانچویں مرتبہ میں یا تیسری مرتبہ میں تھوڑا سا کافور اور تھوڑی سی بیری شامل کر لینی چاہیے اسے ایک نئے مٹکے میں رکھنا چاہیے پھر تم اس کی میت کو بٹھا دو اور اس پر پانی بہاؤ اس کے سر سے آغاز کرو یہاں تک کہ اس کے پاؤں تک پہنچ جائے جب تم اس سے فارغ ہو جاؤ تو اس پر صاف کپڑا ڈال دو پھر اپنا ہاتھ کپڑے کے نیچے داخل کر کے اس کے لباس کو اتار دو اور پھر اس کے نیچے والے حصے میں روئی ڈال دو جہاں تک ہو سکے اور روئی کو بھر دو پھر تم دھوئی ہوئی لمبی سبطی کپڑا لے کر اس کے پہلو پر باندھو ، جس طرح ازار بند باندھا جاتا ہے ، پھر تم اس کی دونوں زانوں کے درمیان گرہ لگا دو اور اس کے دونوں زانوں کو ملا دو پھر اس رسی کا ایک کنارہ اس کے پہلو پر ڈال دو جو اس کے گھٹنے کے قریب ہو یہ اس کے زیریں حصے کا معاملہ ہو گیا پھر تم اسے خوشبو لگاؤ اسے کفن پہناؤ اور اس کے بالوں کی تین چوٹیاں بنا دو ایک بڑا جوڑا ہو ، اور دو اطراف کی لٹیں ہوں اور اس کو مردوں کے ساتھ مشابہت نہ دلوانا عورت کا کفن پانچ کپڑوں کی شکل میں ہونا چاہیے جن میں سے ایک تہبند ہو جس کو تم اس کے زانوں پر لپیٹ دو اور تم نورہ ، یا کسی اور چیز کے ذریعے اس کے بال صاف نہ کرنا اس کے جو بال گر گئے ہوں انہیں دھو دینا اور پھر انہیں اس کے سر کے بالوں میں ڈال دینا اس کے سر کے بالوں پر خوشبو لگانا اور اچھی طرح سے خوشبو لگانا تم اسے گرم پانی کے ذریعے غسل نہ دینا اور تم اس کو ڈھانپ دینے کے بعد ، اس کے کفن پر سات مرتبہ معمولی سی خوشبو لگا دینا ، اگر تم چاہو ، اور اس میں سے ہر ایک کو طاق تعداد میں رکھنا ، یہ اس کے کفن اور اس کے سر کا معاملہ ہو گیا اگر وہ ورم آلود جسم والی تھی ، تو پھر تم ایک کپڑا لے کر اسے پانی کے ذریعے دھو دینا اور اس کی ہر چیز کو تلاش کر کے صاف کرنا ، اسے حرکت نہ دینا کیونکہ مجھے یہ اندیشہ ہے کہ اس میں سے کوئی ایسی چیز نکل آئے گی جسے واپس نہیں کیا جا سکے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ۔ جن میں سے ایک سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے وہ تدلیس کرنے والا ہے ، لیکن وہ ثقہ ہے دوسری سند میں ایک راوی جنید ہے اس کی توثیق کی گئی ہے اس کے بارے میں کچھ کلام بھی کیا گیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4074
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (124/25)»