مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجنائز— جنائز کے بارے میں روایات
بَابُ تَجْهِيزِ الْمَيِّتِ ، وَغُسْلِهِ ، وَالْإِسْرَاعِ بِذَلِكَ . باب: میت کو تیار کرنا اسے غسل دینا اور یہ کام جلدی کرنا
حدیث نمبر: 4072
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ قَالَ : غَسَّلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، فَلَمَّا بَلَغْتُ عَوْرَتَهُ قُلْتُ لِبَنِيهِ : أَنْتُمْ أَحَقُّ بِغَسْلِ عَوْرَتِهِ ، دُونَكُمْ فَاغْسِلُوهَا . فَجَعَلَ الَّذِي يَغْسِلُهَا عَلَى يَدِهِ خِرْقَةً وَعَلَيْهَا ثَوْبٌ ، ثُمَّ غَسَلَ الْعَوْرَةَ مِنْ تَحْتِ الثَّوْبِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤محمد محی الدین
محمد بن سیرین بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو غسل دیا جب میں ان کی شرمگاہ کے مقام تک پہنچا تو میں نے ان کے صاحبزادے سے کہا: ان کی شرمگاہ کو غسل دینے کا تم زیادہ حق رکھتے ہو اب تم انہیں سنبھالو انہیں غسل دو ان صاحبزادے نے انہیں غسل دینا شروع کیا ان کے ہاتھ میں کپڑا لپٹا ہوا تھا اور سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی میت پر بھی کپڑا موجود تھا انہوں نے کپڑے کے نیچے سے ان کی شرمگاہ کو دھویا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔