مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجنائز— جنائز کے بارے میں روایات
بَابُ تَجْهِيزِ الْمَيِّتِ ، وَغُسْلِهِ ، وَالْإِسْرَاعِ بِذَلِكَ . باب: میت کو تیار کرنا اسے غسل دینا اور یہ کام جلدی کرنا
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ غَسَّلَ مَيِّتًا فَأَدَّى فِيهِ الْأَمَانَةَ وَلَمْ يُفْشِ عَلَيْهِ مَا يَكُونُ مِنْهُ عِنْدَ ذَلِكَ خَرَجَ مِنْ ذُنُوبِهِ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ " ، قَالَ : " لِيَلِهِ أَقْرَبُكُمْ مِنْهُ إِنْ كَانَ يَعْلَمُ ، فَإِنْ لَا يَعْلَمْ فَمَنْ تَرَوْنَ عِنْدَهُ حَظًّا مِنْ وَرَعٍ وَأَمَانَةٍ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ ، وَفِيهِ كَلَامٌ كَثِيرٌ . ¤سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص میت کو غسل دیتے ہوئے امانت کو ادا کرتا ہے ، اور غسل کے وقت اس کی طرف جو چیز سامنے آئی تھی اسے پھیلاتا نہیں ہے وہ اپنے گناہوں سے نکل کر یوں ہو جاتا ہے جیسے وہ اس دن تھا جب اس کی والدہ نے اسے جنم دیا تھا “ ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میت کو غسل وغیرہ دینے کا کام اسے کرنا چاہیے جو میت کا سب سے زیادہ قریبی ہو اگر کسی قریبی عزیز کا پتہ ہو ، اور اگر یہ نہیں پتہ ہوتا تو اسے دینا چاہیے جس کے بارے میں تم یہ سمجھتے ہو کہ یہ سب سے زیادہ پرہیز گار اور امانت والا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے اس کے بارے میں بہت زیادہ کلام کیا گیا ہے ۔