مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجنائز— جنائز کے بارے میں روایات
بَابُ الثَّنَاءِ عَلَى الْمَيِّتِ . باب: میت کی تعریف کرنا
وَعَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : كُنْتُ قَاعِدًا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَرَّتْ جِنَازَةٌ فَقَالَ : " مَا هَذِهِ الْجِنَازَةُ ؟ " فَقَالَ : جِنَازَةُ فُلَانِ بْنِ فُلَانٍ ، [ كَانَ يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولِهِ . فَقَالَ : " وَجَبَتْ " ثَلَاثًا . ثُمَّ مَرَّتْ أُخْرَى فَقَالَ : " مَا هَذِهِ ؟ " فَقَالُوا : جِنَازَةُ فُلَانِ بْنِ فُلَانٍ ] كَانَ يُبْغِضُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَالَ : " وَجَبَتْ " ثَلَاثًا . ¤ قُلْتُ : لَهُ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ بِغَيْرِ هَذَا السِّيَاقِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا ایک جنازہ گزرا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : یہ کس کا جنازہ ہے ؟ کسی نے بتایا یہ فلاں بن فلاں کا جنازہ ہے ۔ وہ ایک ایسا شخص تھا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ ارشاد فرمایا : واجب ہو گئی پھر ایک اور جنازہ گزرا آپ نے دریافت کیا : یہ کس کا جنازہ ہے ؟ لوگوں نے بتایا یہ فلاں بن فلاں کا جنازہ ہے وہ ایک ایسا شخص تھا جو اللہ اور اس کے رسول سے بغض رکھتا تھا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ ارشاد فرمایا واجب ہو گئی ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان صحابی کے حوالے سے ” صحیح “ میں ایک حدیث منقول ہے ، جو اس سیاق کے بغیر ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صیح “ کے رجال ہیں ۔