مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجنائز— جنائز کے بارے میں روایات
بَابُ الثَّنَاءِ عَلَى الْمَيِّتِ . باب: میت کی تعریف کرنا
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُتِيَ بِجِنَازَةٍ ، فَأَثْنَى النَّاسُ عَلَيْهَا خَيْرًا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَجَبَتْ " . ثُمَّ أُتِيَ بِأُخْرَى فَكَأَنَّ النَّاسَ نَالُوا مِنْهُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَجَبَتْ " . فَقَالَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أُتِيَ بِفُلَانٍ فَقَالَ : وَجَبَتْ ، وَأُتِيَ بِفُلَانٍ فَقَالَ : وَجَبَتْ . فَقَالَ عُمَرُ : بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي ، أُتِيَ بِفُلَانٍ فَأَثْنَى النَّاسُ عَلَيْهِ خَيْرًا فَقُلْتَ : وَجَبَتْ ، ثُمَّ أُتِيَ بِفُلَانٍ أَثْنَى النَّاسُ عَلَيْهِ شَرًّا فَقُلْتُ : وَجَبَتْ ؟ فَقَالَ : " أُتِيَ بِأَخِيكُمْ فَشَهِدْتُمْ بِمَا شَهِدْتُمْ فَوَجَبَتْ شَهَادَتُكُمْ ، ثُمَّ أُتِيَ بِأَخِيكُمْ فُلَانٍ فَشَهِدْتُمْ [ بِمَا شَهِدْتُمْ ] فَوَجَبَتْ شَهَادَتُكُمْ ، أَنْتُمْ شُهَدَاءُ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ بَعْضُكُمْ عَلَى بَعْضٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ . ¤سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے ایک جنازہ لایا گیا لوگوں نے اس کی اچھائی بیان کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : واجب ہو گئی پھر ایک اور جنازہ لایا گیا لوگوں نے اس کی برائی بیان کی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : واجب ہو گئی صحابہ کرام نے عرض کی : فلاں شخص کا جنازہ لایا گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : واجب ہو گئی پھر فلاں کو لایا گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : واجب ہو گئی سیدنا عمر صلی اللہ علیہ وسلم نے عرض کی : میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں فلاں شخص کو لایا گیا لوگوں نے اس کی تعریف کی ، تو آپ نے یہ ارشاد فرمایا : واجب ہو گئی پھر فلاں کو لایا گیا لوگوں نے اس کی برائی بیان کی ، تو آپ نے ارشاد فرمایا : واجب ہو گئی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تمہارے ایک بھائی کو لایا گیا تم نے اس کے بارے میں جو بھی گواہی دینی تھی وہ گواہی دی ، تو تمہاری گواہی واجب ہو گئی پھر تمہارے فلاں بھائی کو لایا گیا تم نے اس کے بارے میں جو گواہی دینی تھی وہ دی تو تمہاری گواہی واجب ہو گئی تم لوگ زمین میں ایک دوسرے کے بارے میں اللہ کے گواہ ہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں
یہ روایت امام بزار نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔