مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجنائز— جنائز کے بارے میں روایات
بَابُ الثَّنَاءِ عَلَى الْمَيِّتِ . باب: میت کی تعریف کرنا
وَعَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَمُوتُ فَتَشْهَدُ لَهُ أَهْلُ أَرْبَعَةِ أَبْيَاتٍ مِنْ جِيرَانِهِ الْأَدْنَيْنَ إِلَّا قَالَ اللَّهُ : قَدْ قَبِلْتُ عِلْمَكُمْ فِيهِ ، وَغَفَرْتُ لَهُ مَا لَا تَعْلَمُونَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى . وَقَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَمُوتُ فَيَشْهَدُ لَهُ أَهْلُ أَرْبَعَةِ أَبْيَاتٍ مِنْ جِيرَانِهِ الْأَدْنَيْنَ أَنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ إِلَّا خَيْرًا إِلَّا قَالَ اللَّهُ : قَدْ قَبِلْتُ عِلْمَكُمْ وَغَفَرْتُ لَهُ مَا لَا تَعْلَمُونَ " . ¤ وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤ قُلْتُ : لِأَنَسٍ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ غَيْرُ هَذَا . ¤سیدنا انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جب کوئی مسلمان فوت ہو جائے اور اس کے قریبی پڑوسیوں میں سے چار گھرانے کے افراد اس کے حق میں گواہی دے دیں ، تو اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے : اس شخص کے بارے میں تمہارے علم کو میں نے قبول کیا ، اور جو چیز تم نہیں جانتے اس کے حوالے سے میں نے اس کی مغفرت کر دی “ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو مسلمان فوت ہو جائے اور اس کے قریبی پڑوسیوں میں سے چار گھرانے کے افراد اس کے حق میں گواہی دے دیں کہ وہ لوگ اس کے بارے میں صرف بھلائی کا علم رکھتے ہیں تو اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے : تمہارے علم کو میں نے قبول کیا ، اور جس چیز کے بارے میں تم نہیں جانتے اس کے حوالے سے میں نے اس کی مغفرت کر دی“ ۔ امام أحمد کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول حدیث ” صحیح “ میں بھی مذکور ہے ، لیکن وہ اس کے علاوہ ہے ۔