حدیث نمبر: 3957
وَعَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : لَمَّا قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَعَدَ أَصْحَابُهُ حِزَانًا يَبْكُونَ حَوْلَهُ ، فَجَاءَ رَجُلٌ طَوِيلٌ صَبِيحٌ فَصِيحٌ فِي إِزَارٍ وَرِدَاءٍ ، أَشْعَرُ الْمَنْكِبَيْنِ وَالصَّدْرِ ، فَتَخَطَّى أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَخَذَ بِعِضَادَيِ الْبَابِ ، فَبَكَى عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاعَةً ثُمَّ قَالَ : إِنَّ فِي اللَّهِ عَزَاءً مِنْ كُلِّ مُصِيبَةٍ ، وَخُلْفًا مِنْ كُلِّ هَالِكٍ ، وَعِوَضًا مَنْ كُلِّ مَا فَاتَ ، فَإِلَى اللَّهِ فَأَنِيبُوا ، وَإِلَيْهِ فَارْغَبُوا ، فَإِنَّمَا الْمُصَابُ مَنْ لَمْ يَجْبُرْهُ الثَّوَابُ . فَقَالَ الْقَوْمُ : تَعْرِفُونَ الرَّجُلَ ؟ فَنَظَرُوا يَمِينًا وَشِمَالًا فَلَمْ يَرَوْا أَحَدًا ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : هَذَا الْخَضِرُ أَخُو النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبَّادُ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ أَبُو مَعْمَرٍ ، ضَعَّفَهُ الْبُخَارِيُّ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا تو آپ کے اصحاب آپ کے اردگرد غمگین بیٹھے ہوئے تھے اسی دوران ایک طویل القامت شخص آیا جس کا چہرہ روشن تھا اور زبان فصیح تھی اس نے تہبند باندھا ہوا تھا اور چادر اوڑھی ہوئی تھی کندھے کے بال زیادہ تھے ، اور سینے کے بال بھی زیادہ تھے وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کو پھلانگتا ہوا آگے آیا اور دروازے کی چوکھٹ کے پاس کھڑا ہو گیا وہ گھڑی بھر تک روتا رہا پھر اس نے یہ کہا: ہر مصیبت کے حوالے سے اللہ تعالٰی سے ہی مدد حاصل کی جا سکتی ہے ، اور ہر ہلاک ہونے والے کی جگہ وہی کفایت کرتا ہے ، اور ہر فوت ہونے والی چیز کا عوض عطا کرتا ہے ، تو تم لوگ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرو اس کی طرف رغبت رکھو کیونکہ مصیبت زدہ وہ شخص ہوتا ہے ، جسے ثواب نصیب نہ ہو حاضرین نے کہا: کیا تم لوگ ان صاحب کو جانتے ہو ؟ ان لوگوں نے دائیں بائیں دیکھا تو انہیں کوئی نظر نہ آیا تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بتایا : یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بھائی سیدنا خضر علیہ السلام تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عباد بن عبدالصمد ابومعمر ہے ، جسے امام بخاری رحمہ اللہ نے ” ضعیف“ قرار دیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 3957
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف