مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجنائز— جنائز کے بارے میں روایات
بَابُ إِغْمَاضِ الْبَصَرِ وَمَا يَقُولُ . باب: ( میت کی ) آنکھیں بند کر دینا اور آدمی کیا کہے ( یعنی کیا دعا کرے ؟ )
عَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ : دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى أَبِي سَلَمَةَ وَهُوَ فِي الْمَوْتِ فَلَمَّا شَقَّ بَصَرَهُ مَدَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَدَهُ فَأَغْمَضَهُ ، فَلَمَّا أَغْمَضَهُ صَاحَ أَهْلُ الْبَيْتِ فَسَكَّتَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَالَ : " إِنَّ النَّفْسَ إِذَا خَرَجَتْ يَتْبَعُهَا الْبَصَرُ وَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَحْضُرُ الْمَيِّتَ فَيُؤَمِّنُونَ عَلَى مَا يَقُولُ أَهْلُ الْمَيِّتِ " ، قَالَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اللَّهُمَّ ارْفَعْ دَرَجَةَ أَبِي سَلَمَةَ فِي الْمَهْدِيِّينَ وَاخْلُفْهُ فِي عَقِبِهِ فِي الْغَابِرِينَ وَاغْفِرْ لَنَا وَلَهُ يَوْمَ الدِّينِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِنَحْوِهِ وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي النَّوَّارِ وَهُوَ مَجْهُولٌ . ¤سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے جو انتقال کر چکے تھے ان کی آنکھیں کھلی ہوئی تھیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک بڑھا کر ان کی آنکھیں بند کر دیں جب آنکھیں بند کیں تو گھر والے رونے لگے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں خاموش کروایا اور ارشاد فرمایا : جب جان نکلتی ہے ، تو بینائی اس کے پیچھے جاتی ہے ، اور فرشتے میت کے پاس موجود ہوتے ہیں اور میت کے گھر والے جو کچھ کہتے ہیں : اس پر فرشتے آمین کہتے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا کی : ” اے اللہ ! ہدایت یافتہ لوگوں میں ابوسلمہ کے درجے کو بلند کر دے اور اس کے پس ماندگان میں اس کی جگہ ( دیکھ بھال کرنے والا ) ہو جا اور ہماری اور اس کی قیامت کے دن مغفرت کر دینا“ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں اس کی مانند نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابونوار ہے ، اور وہ مجہول ہے ۔